تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 394
خطبہ جمعہ فرمود : 15 جنوری 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول پیسٹری اُڑانے اور پلا ؤ اور زردہ کھانے کے باوجود ان کی اشاعت اسلام میں فرق نہیں آتا تو چند قیموں اور نادار بچوں کو نجاری یا آہنگری کا کام سکھانے پر ہمارے دین میں کس طرح فرق آجاتا ہے اور ہم ان کی نگاہ میں کیوں بے دین بن جاتے ہیں؟ یہ تو اصل میں تھو کھٹے والی بات ہے ہر کام جو میں نے آج تک کیا اس پر انہوں نے اعتراض کیا مگر پانچ دس سال کے بعد جب دیکھتے ہیں کہ ہمارا عتراض لوگوں کو بھول گیا ہوگا تو وہی کام خود شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ہے ہماری قوم کی ترقی جو اس نے تھوڑی سی مدت میں کر لی بلکہ ایک مدت کے بعد تو الفاظ بھی وہی لکھنے لگ جاتے ہیں جن پر پہلے اعتراض کیا کرتے ہیں۔چنانچہ اُن کا بڑا اعتراض یہ تھا کہ ہم لوگ خلافت کے قائل ہیں مگر اب ایک دوست نے ان کا ایک خط بھجوایا ے جو غیر علاقہ کے کسی آدمی کوان کی انجمن کے سیکرٹری نے لکھا اور جس میں مولوی محمد علی صاحب کے متعلق حضرت خلیفہ ایسیج امیر ایدہ اللہ کے الفاظ تحریر کئے ہیں۔دیکھو! یا تو کبھی خلافت پر اعتراض کئے جاتے تھے یا اپنے خطوط پر چوری چھپے مولوی محمد علی صاحب کے متعلق خلیفہ مسیح لکھا جانے لگ گیا ہے۔یہ خط جو غیر مبائعین کا پکڑا گیا ہے اس کے نیچے سیکرٹری کے طور پر غلام نبی مسلم کا نام لکھا ہوا ہے۔غرض جو کام میں کرتا ہوں اس پر یہ لوگ پہلے اعتراض کرتے ہیں مگر پانچ دس سال کے بعد انہی کاموں کی نقل شروع کر دیتے ہیں۔ایک زمانہ تھا جب یہ کہتے تھے کہ وصیت میں کیا رکھا ہے؟ کیا اسی زمین میں داخل ہو کر انسان جنتی بن سکتا ہے اس کے علاوہ جنتی نہیں بن سکتا؟ وہ زمانہ میں نہیں بھول سکتا جب ان لوگوں نے بہشتی مقبرہ کے پاس کچھ زمین خریدی تو کسی نے اُن سے پوچھا کہ آپ تو بہشتی مقبرہ پر اعتراض کیا کرتے تھے اور اب خود بہشتی مقبرہ کے طور پر ایک زمین خرید لی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ تو وہ کہنے لگے کہ یہ الوؤں کو تسلی دینے کے لئے خریدی گئی ہے یعنی بعض آلو ایسے بھی ہیں کہ جب تک بہشتی مقبرہ کے پاس قبروں کے لئے کوئی جگہ نہ ہو انہیں تسلی نہیں ہوتی۔اس دوست نے وہ بات آگے بیان کی پھر اور لوگوں میں مشہور ہوئی یہاں تک کہ ہوتے ہوتے ہماری جماعت میں پیغامیوں کے مقبرہ کا نام ہی اُلوؤں کا مقبرہ ہو گیا۔غرض انہوں نے وصیتوں پر تمسخر اڑایا، اپنی وصیتیں واپس لیں حتی کہ مولوی محمد علی صاحب نے اپنی وصیت منسوخ کرائی مگر آج میں بائیس سال کے بعد اپنے جلسہ سالانہ میں مولوی محمد علی صاحب نے اپنی تقریر کرتے ہوئے کہا میں اپنے گناہ کا نہایت ندامت کے ساتھ اقرار کرتے ہوئے اشاعت اسلام کے لئے وصیت کرتا ہوں۔گویا اب وصیت کرنا نیک کام بن گیا؟ فرق صرف یہ ہے کہ ان کے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقرر کردہ بہشتی مقبرہ کے لئے وصیت کرنے والا ان الفاظ کا مستحق ہے جو انہوں 394