تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 385
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 15 جنوری 1937ء ہوئے تو بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو خیال آیا کہ اسلام کی اشاعت کا کام اب کس طرح چلے گا ؟ اور بعض تو یہاں تک کہنے لگے کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہوں ؟ وہ زندہ ہیں اور نہیں فوت ہو سکتے جب تک اسلام کامل طور پر دنیا میں نہ پھیل جائے اس وقت حضرت ابو بکر نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو مخاطب کر کے یہی کہا کہ اے مسلمانو! اسلام کا کام خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَقٌّ لَا يَمُوتُ یا درکھو! جو اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط رکھتا ہے اُسے یہ سن کر خوش ہو جانا چاہئے کہ ہمارا خدا زندہ خدا ہے ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو فوت ہو گئے ہیں لیکن ہمارا خدا زندہ ہے اور وہ کبھی فوت نہیں ہوسکتا: وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدُمَاتَ لیکن جو اسلام سے اس لئے تعلق رکھتا تھا کہ گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ہی تمام زندگی ہے آپ ﷺ فوت ہوئے تو یہ زندگی بھی جاتی رہے گی اُسے سُن لینا چاہئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اور اس کا اسلام بھی ختم ہو گیا تو انسانوں کے ساتھ کام کو وابستہ رکھنا بے وقوفی اور حماقت کی بات ہوتی ہے۔آدمی پیدا ہوتے اور مرتے ہی رہتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے کام برابر چلتے چلے جاتے ہیں اور دراصل ہر زمانہ میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی نسبت لوگ کہتے ہیں کہ یہ بہت بڑے سیاستدان ہیں، ہر زمانہ میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی نسبت لوگ کہتے ہیں کہ یہ بہت بڑے جرنیل ہیں، ہر زمانہ میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی نسبت لوگ کہتے ہیں کہ یہ بہت بڑے ڈاکٹر یا حکیم ہیں، یہ مسیح الزمان ہو گئے ہیں مگر پھر وہ سیاستدان بھی مرتے چلے جاتے ہیں، وہ جرنیل بھی مرتے چلے جاتے ہیں، وہ ڈاکٹر اور حکیم بھی جو مسیح الزمان کہلاتے ہیں مرتے چلے جاتے ہیں مگر سیاستوں کے الجھے ہوئے مسائل پھر بھی حل ہوتے رہتے ہیں، فتوحات پھر بھی ہوتی رہتی ہیں، بیمار پھر بھی اچھے ہوتے رہتے ہیں۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ کسی بڑے سیاستدان کے مرجانے کے بعد سیاست کی پیچیدہ گتھیاں سلجھنے سے رہ جائیں یا کسی بڑے جرنیل کے مرجانے کے بعد لڑائیوں میں ہمیشہ شکست ہوتی چلی جائے یا کسی مسیح الزمان کے مرجانے کے بعد بیمارا اچھے نہ ہوتے ہوں بلکہ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک مسیح الزمان مرتا ہے تو دوسرا مسیح الزمان پیدا ہو جاتا ہے، ایک بادشاہ مرتا ہے تو دوسرا بادشاہ پیدا ہو جاتا ہے، ایک سیاستدان مرتا ہے تو دوسرا سیاستدان پیدا ہو جاتا ہے صرف قوم میں بیداری اور اپنے فرض کو پورا کرنے کا احساس ہونا چاہئے۔پس 385