تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 384

خطبہ جمعہ فرمود و 15 جنوری 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اور قادیان کے وجود کی برکات جانتے ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ دینی خدمات کے لحاظ سے سب سے زیادہ ذمہ داری قادیان کے لوگوں پر ہی عائد ہوتی ہے۔خانہ کعبہ کی حفاظت اور تطہیر ہر ایک مسلمان کے ذمہ ہے مگر قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس نسل کو خاص طور پر مخاطب کیا گیا ہے جو مکہ میں رہنے والی تھی اور اُسے کہا گیا کہ تمہارے لئے خانہ کعبہ کی تطہیر فرض مقرر کی جاتی ہے۔چنانچہ فرمایا: أنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّابِقِينَ وَالْعُكِفِينَ (البقرة: 126) گو طائف یعنی جو مکہ میں طواف کرنے والے تھے، اُن کے لئے بھی خانہ کعبہ کی تطہیر ضروری تھی مگر خدا تعالیٰ نے خصوصیت سے ان لوگوں کو مخاطب فرمایا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں سے مکہ میں رہتے تھے کیونکہ اس وقت وہی نسل تھی دوسرے لوگ مکہ میں نہیں تھے۔اسی طرح جو لوگ قادیان میں رہتے ہیں یا کسی اور ایسی جگہ رہتے ہیں جس کو خدا تعالیٰ نے مقدس قرار دیا یا جہاں کے لوگوں نے دوسروں سے زیادہ ذمہ داری اُٹھائی ہوئی ہوتی ہے وہاں کے رہنے والوں پر دوسروں سے زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور ان کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ خواہ وہ بوجھ سے دوسروں سے زیادہ دبے ہوئے ہوں پھر بھی وہ زیادہ قربانیاں کریں اور زیادہ ایثار کے نمونے دکھا ئیں۔پس میں تمام مساجد کے ائمہ، پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جلد سے جلد چندہ تحریک جدید کے متعلق اپنے حلقوں کی فہرستیں مکمل کر کے دفتر میں بھجوادیں مگر اس کے لئے کسی پر جبر نہ کیا جائے بلکہ انہی لوگوں کا نام لکھا جائے جو خوشی سے اپنے نام پیش کریں۔میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ اس تحریک میں دوسرے پر جبر کرنا جائز نہیں اور نہ یہ جائز ہے کہ کسی کے زمہ کوئی رقم مقرر کر دی جائے اور کہ دیا جائے کہ اتنے روپوں کی ادا ئیگی اس پر فرض ہے۔پس وہ بغیر لوگوں کو مجبور کرنے کے اپنے اپنے حلقوں کی فہرستیں مکمل کر کے جلد سے جلد بھجوا دیں۔بعض محلوں نے غالباً فہرستیں مکمل کر لی ہوں گی مگر بعض محلے ابھی ایسے باقی ہیں جنہوں نے فہرستیں مکمل کر کے نہیں بھجوائیں۔اسی طرح میں لجنہ اماءاللہ کو پھر تحریک کرتا ہوں کہ جو کمیٹیاں صرف ایک آدمی پر مبنی ہوں اور وہ آدمی جب بیمار ہو تو کام رک جائے وہ کمیٹیاں دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوا کرتیں کامیاب ہونے والی وہی کمیٹیاں ہوتی ہیں جن کا انحصار آدمیوں پر نہیں ہوتا بلکہ ایک آدمی اگر مر جائے یا کام سے علیحدہ ہو جائے تو فوراً دوسرا آدمی اس کی جگہ لینے کے لئے تیار ہو جائے اور اگر دوسرا آدمی بھی مر جائے یا کام سے علیحدہ ہو جائے تو اس کی جگہ لینے کے لئے ایک تیسرا آدمی تیار ہو۔غرض زندہ قومیں اور محنت سے کام کرنے والے لوگ کسی ایک انسان سے اپنے آپ کو وابستہ نہیں رکھتے۔صحابہ رضی اللہ عنہ کو دیکھو جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت 384