تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 386
خطبہ جمعہ فرمود : 15 جنوری 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول انسانوں پر اپنے کاموں کا انحصار نہیں رکھنا چاہئے۔میں دیکھتا ہوں اس نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے باہر کی جماعتوں کو بھی غلطی لگ رہی ہے۔چنانچہ بعض جماعتوں کے پریزیڈنٹ یا سیکرٹری جو سست ہوتے ہیں یا خودان کی مالی حالت ایسی اچھی نہیں ہوتی کہ اس تحریک میں حصہ لے سکیں وہ خاموش بیٹھے رہتے ہیں اور ان کے خاموش بیٹھے رہنے کی وجہ سے ساری جماعت خاموش رہتی ہے اور نیک تحریکات میں حصہ لینے سے محروم رہتی ہے لیکن جہاں کے پریزیڈنٹ اور سیکرٹری پچست ہوں وہاں کی جماعت کے افراد کی لسٹیں فوراً مکمل ہو کر پہنچ جاتی ہیں۔چنانچہ اسی چندہ تحریک جدید کے متعلق گزشتہ دنوں میں نے بعض جماعتوں کو نصیحت کی تھی کہ وہ جلد بازی سے نامکمل فہرستیں نہ بھیجیں۔ان جماعتوں سے میری مراد وہی جماعتیں تھیں جو ہوشیاری اور تیزی سے ایک دوسری سے بڑھنا چاہتی تھیں۔چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ ان جماعتوں کے چندہ میں چھپیس فیصدی کی زیادتی ہوئی ہے لیکن اب وہ جماعتیں رہ گئی ہیں جن کے پریذیڈنٹ اور سیکرٹری ست ہیں۔دفتر والے کہتے ہیں کہ ہم نے انہیں تحریکیں بھیج دیں مگر وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا۔میں نے گزشتہ سال بھی بتایا تھا کہ جس جگہ کی جماعت کے پریذیڈنٹ یا سیکرٹری سست ہوں وہ مرکز سے جو تحریکات جائیں یا تو انہیں پڑھتے ہی نہیں اور اگر پڑھیں تو چھپا دیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر جماعت کے دوسرے افراد کو بھی ان تحریکات کا علم ہو گیا تو ہمارے حصہ نہ لینے کی وجہ سے ہمیں شرمندگی ہوگی۔حالانکہ تحریک جدید کوئی جبری تحریک نہیں کہ اس میں شرمندگی کا سوال ہونگر پھر بھی بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں جو اپنی کمزوری کو چھپا کر جماعت کو بدنام کرنا چاہتی ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح اول کے زمانہ میں بھی بعض دفعہ میں نے خود دیکھا کہ پیکٹ کے پیکٹ قادیان سے باہر کی بعض جماعتوں کو بھیجے جاتے اور وہاں بند کے بند ہی پڑے رہتے۔ایسی جماعتوں کے پریذیڈنٹ اور سیکرٹری کو گو پہلی دفعہ مخاطب کر لینا چاہئے مگر جب معلوم ہو جائے کہ وہ اپنے کام میں سُست ہیں تو پھر پریذیڈنٹ اور سیکرٹری کو چھوڑتے ہوئے جماعت کے جو دوسرے افراد ہوں ان کو مخاطب کیا جائے چنانچہ اب بھی بعض مقامات سے جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں اُن میں بھی یہی لکھا ہے کہ ہمارے پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں نے ہمیں کوئی تحریک نہیں کی ہمیں دوسرے ذرائع سے تحریک کا علم ہوا اب ہم اس تحریک میں جو حصہ لے رہے ہیں یہ منفردانہ حصہ ہے۔گویا اُن پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کسی مکان کی بدر رو بند ہو جائے۔جب کسی مکان کی بدر رو بند ہو جائے گی تو پھر اس کے اندر جتنا پانی آئے گا اندر ہی رہے گا 386