تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 360
اقتباس از تقریر فرموده 10 اپریل 1936ء "" تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول اور کئی ایک نے ایسا ہی کیا ہے۔وہ جس کا میں نے ذکر کیا ہے کہ کلکتہ تک پیدل گیا وہ جالندھر سے روانہ ہوا اور کلکتہ پہنچ کر آگے سٹریٹ سیٹلمنٹ کے لئے روانہ ہو گیا اور دس کے قریب ایسے لڑکے ہیں جو ان کے علاوہ ہیں جن میں سے بعض کی تقلیل مدد کی گئی اور بعض کو کوئی مدد نہیں دی گئی۔تو جماعتیں اپنے نوجوانوں کو بتائیں کہ گھروں میں بے کار بیٹھے رہنے کی بجائے پاؤ نیر بنو اور باہر جا کر کام کرو۔اس طرح خود بھی فائدہ اٹھاؤ اور سلسلہ کو بھی فائدہ پہنچاؤ۔“ میں بتا چکا ہوں کہ روحانی ترقی کا روپیہ پر انحصار نہیں مگر موجودہ حالات کے لحاظ سے روپیہ کی ضرورت ہے اس کے لئے جماعت کو تحریک ہوتی رہتی ہے۔میں نے تحریک جدید اور صدرانجمن احمدیہ کی طرف سے ایسے کام شروع کرائے ہیں کہ ان کے ذریعہ کچھ آمد ہو سکے اور اس غرض کے لئے کچھ زمین بھی خریدی گئی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ کچھ عرصہ تک وہ زمین اپنا بوجھ برداشت کرنے لگ جائے گی اور اس کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ آمد دینے لگے گی۔گو اس وقت تک صدر انجمن احمدیہ کا پچاس ہزار کے قریب اور تحریک کا پچاس ہزار کے قریب روپیہ خرچ ہوا ہے لیکن امید ہے کہ آخر یہ جائیداد بارہ تیرہ لاکھ کی ہو جائے گی یا اس سے بھی زیادہ کی ، میرا ارادہ ہے کہ اسی طرح کچھ اور جائیداد خریدی جائے یہاں تک کہ دفاتر کے مستقل اخراجات کا بار چندہ پر نہ رہے چندہ صرف تبلیغ تعلیم وغیرہ پر خرچ ہو۔میرا ارادہ ہے کہ جائیداد پچیس لاکھ تک بڑھا دی جائے تا کہ اس طرح ریز روفنڈ کی تحریک پوری ہو جائے بلکہ ممکن ہو تو بڑھا کر ایک کروڑ تک پہنچادی جائے تاکہ تبلیغ کے کام کو زیادہ شدت سے وسیع کیا جا سکے۔اس طرح یہ زمین اٹھارہ لاکھ کی بن جاتی ہے اور ساری سکیم ایک کروڑ کی ہے جس کے لئے خدا کے فضل سے ایسے سامان پیدا ہو گئے ہیں اور اس طرح پیدا ہوئے ہیں کہ جس کا وہم و گمان بھی نہ تھا مگر اس سکیم کو مکمل کرنے کے لئے شروع میں غیر معمولی قربانیوں کی بھی ضرورت ہوگی مگر اس کے بغیر چارہ نہیں کیونکہ اس وقت ہمارے چندوں کا اکثر حصہ تنخواہوں پر خرچ ہو جاتا ہے بلکہ 2/3 تنخواہوں پر خرچ ہو جاتا ہے اور 1/3 صرف سائز کے لئے رہ جاتا ہے۔حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ 114 عملہ پر خرچ ہو اور 3/4 سائر پر بلکہ ممکن ہو تو اس سے بھی زیادہ فرق ہو تا کہ سلسلہ کا لٹریچر ساری دنیا میں پھیلایا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا دنیا کی ہر زبان میں ترجمہ ہو، ہر ملک میں مبلغ جائیں، وہاں کے لوگوں کو یہاں بلوا کر تعلیم دی جائے۔جماعت کے ناداروں کو کام پر لگانے کی ، بیتامی اور مساکین کی پرورش کی پوری طرح ذمہ داری لی جائے مگر اب تک ہم یہ نہیں کر سکے کیونکہ اول تو آمدیم پھر مرکزی دفاتر کا خرچ زیادہ ہے جسے کم کرنے کی کوئی صورت نہیں کیونکہ اس سے کم کر لیا 360