تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 361
تحریک جدید - ایک ابھی تحریک۔۔۔جلد اول اقتباس از تقریر فرموده: 10 اپریل 1936ء جائے تو کام بالکل ہی بند ہو جاتا ہے۔پس ہمارے لئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ جس قدر کام کا روپیہ پر انحصار ہے اس کے لئے ہم مستقل آمد کی صورت پیدا کریں اور تبلیغی کاموں کے لئے بھی مزید رقوم کا انتظام کریں۔اس وقت خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے بعض ایسے راستے کھولے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں اگر تین چار لاکھ روپیہ کا انتظام ہو جائے تو غالباً ہم لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ کی آمد کی جائیداد پیدا کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں جو پہلی خرید شدہ جائیداد کے ساتھ مل کر سلسلہ کو مرکزی دفاتر کے اخراجات کے بار سے آزاد کر اسکتی ہے اور اس طرح ہم پورے جوش سے تبلیغ کے کام کو وسیع کر سکتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے چند دن میں ہی اعلی سے اعلیٰ نتائج پیدا ہو سکتے ہیں لیکن اس رقم کا انتظام تو اس وقت مشکل ہے کم سے کم اگر دوست صدر انجمن احمدیہ کے بقائے ادا کر دیں اور تحریک کا چندہ اس خلوص سے ادا کریں جس سے انہوں نے وعدہ کیا تھا تو کم سے کم ایک معقول بنیاد اس کام کی ڈالی جاسکتی ہے۔گویا مزید قربانی کرنے کے بغیر اگر جماعت اپنے وعدوں کو ہی جلد سے جلد ادا کر دے تو مجھے اپنی سکیم کے مکمل کرنے میں سہولت ہو سکتی ہے مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس سال تحریک جدید کا چندہ اس سرعت سے نہیں وصول ہو رہا جس سرعت سے گزشتہ سال وصول ہوا تھا۔حالانکہ اس سال چندہ کا وعدہ گزشتہ سال کے وعدے سے زیادہ ہے۔اگر جماعت اس چوٹ کو یا د رکھتی اور اس تکلیف کو بھول نہ جاتی جو اسے پہنچی ہے تو وہ ریز روفنڈ کو بہت مضبوط کر دیتی۔اس کے لئے میں تمام مخلص احباب سے تعاون چاہتا ہوں اور وہ اس طرح کہ: (۱) جن جماعتوں کے ذمہ تحریک جدید کا چندہ ہے اور جسے انہوں نے اس سال ادا کرنا ہے وہ دو تین ماہ کے اندر اندر بھیج دیا جائے اور یہ انتظار نہ کریں کہ سال سے ختم ہونے تک ادا کر دیں گے۔(۲) کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جو مکان بنانے یا کسی اور غرض کے لئے روپیہ جمع کر رہے ہوتے ہیں اور روپیہ کے جمع ہو جانے تک انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ایسے لوگ یا وہ لوگ جو اپنی ضرورت کو ایک سال پیچھے ڈال سکتے ہیں میں ان سے چاہتا ہوں کہ وہ ایک سال کے لئے اپنا روپیہ مجھے قرض دے دیں، میں اس کے ذریعہ سے تحریک جدید کے ریز روفنڈ کو مضبوط کروں گا اور اگلے سال کے چندہ سے ان کی رقم واپس کر دوں گا۔ایسی رقوم بہر حال کیکم اپریل 1937 ء تک انشاء اللہ واپس کر دی جائیں گی۔اگر احباب اس طرح تعاون کریں تو جماعت پر بغیر کسی قسم کا زائد بوجھ ڈالنے کے کام چلایا جاسکتا ہے اور سلسلہ کی آمدنی کا بہت بڑا انتظام کیا جا سکتا ہے۔اگر ہمارا ریز روفنڈ کامیاب ہو جائے تو سو فیصدی چندہ تبلیغ کے کام پر اور ان مقاصد پر جو مرکز سے نہیں بلکہ باہر سے تعلق رکھتے ہیں خرچ ہوگا اور مرکز کے اخراجات ریز روفنڈ کی آمدنی سے چلائے جاسکیں گے چندہ میں سے مرکز میں کچھ نہیں لگے گا۔361