تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 350

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 18 دسمبر 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول کریکٹر میں ایک بہت بڑی تبدیلی پیدا ہوسکتی ہے اور آہستہ آہستہ یہ تبدیلی ہو بھی رہی ہے۔چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں قربانی کی روح اس وجہ سے پیدا ہورہی ہے مگر قربانی کی روح بھی انہی میں پیدا ہوتی ہے جو بشاشت سے اعمال بجالائیں کیونکہ روحانی امور بشاشت سے ہی تعلق رکھتے ہیں جو لوگ عمل کریں مگر ساتھ ہی کڑھتے چلے جائیں اور کہتے جائیں کہ جب سے ایک کھانا کھانا شروع کیا ہے کھانے میں مزا ہی نہیں رہا، انہیں میں یہی کہوں گا کہ وہ دوہی کھانے کھا ئیں کیونکہ ان کا دو کھانے کھانا ایک کھانا کھانے سے زیادہ اچھا ہے۔پس اس تحریک میں وہی شامل ہو جو اس تحریک کی خوبیوں کا قائل ہو گیا ہو اور اپنی اور اپنی جماعت کی زندگی اس میں محسوس کرتا ہو اور جو شخص ابھی اس مقام پر نہیں پہنچا وہ تجربہ کر کے دیکھ لے اگر ایک کھانا کھانے کے بعد اس کے دل میں بشاشت پیدا نہ ہو تو چھوڑ دے یعنی اس تحریک کی خوبیوں کو نہ اس کا دل مانتا ہو نہ عقل اور وہ تجربہ کر کے فائدہ نہ دیکھے تو اسے چھوڑ دے۔ہاں وہ شخص جس کی عقل تو نہ مانتی ہومگر دل مانتا ہو یعنی وہ سمجھتا ہو کہ خواہ میرا نفس کچھ اور کہتا ہے مگر جب میں ایک شخص پر اعتقاد رکھتا ہوں کہ وہ میرا استاد ہے تو اس نے جو کچھ کہا ہوگا درست ہی کہا ہوگا تو ایسے شخص کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے لیکن وہ شخص جس کی نہ عقل مانتی ہو نہ دل اور عمل کے بعد بھی اس کی قبض دور نہیں ہوتی وہ اس مطالبہ پر عمل کر کے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکے گا سوائے اس کے کہ اس کی صحت خراب ہو اور وہ صبح شام کڑھتا ر ہے اور کچھ نتیجہ اس کے لئے نہیں نکلے گا۔میں نے جیسا کہ بتایا ہے یہ معمولی مطالبہ نہیں بلکہ نہایت ہی اہم مطالبہ ہے اور یقیناً جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طریق پر غور کرے گا اسے معلوم ہو جائے گا کہ اسلامی تعلیم اور اسلامی تعامل یہی ہے۔باقی رہا یہ کہنا کہ اگر اسلامی تعلیم یہی ہے تو آپ حکم کیوں نہیں دیتے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں جو عمل کیا جائے وہ بشاشت سے کیا جائے اور اپنی مرضی سے کیا جائے تا کہ ثواب بڑھے۔جو فوری ضروریات ہوتی ہیں ان کے متعلق ہم حکم دے دیتے ہیں اور جو فوری امور نہ ہوں ان میں ہم حکم نہیں دیتے بلکہ قوم کو تیار کرتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں جوں جوں ہماری جماعت اس تحریک پر عمل کرتی چلی جائے گی ایک طبقہ ایسا پیدا ہو جائے گا جو پھر واپس نہیں جائے گا اور کہے گا ہمارے لئے یہی مقام اچھا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اسلام ایسے تمدن کو قائم کرنا چاہتا ہے جو دنیا کے تمدن سے بالکل مختلف ہے اور یہ اس تمدن کی پہلی سیڑھی ہے۔آج اگر ہم تمدن میں تبدیلی نہیں کر سکتے تو جب ہمیں بادشاہتیں ملیں گی 350