تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 349

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 دسمبر 1936ء لئے وہ سمجھتا ہے کہ میں نے بہت تھوڑا کھایا ہے اور زبردستی اور کھاتا جاتا ہے۔حالانکہ وہ چکھنے میں ہی بہت کچھ کھا چکا ہوتا ہے تو کم خوری، کم گوئی اور کم سونا یہ روحانی ترقیات کے لئے اولیائے الہی ضروری بتاتے ہیں اور کم کھانے کے لئے ضروری ہے کہ انسان ایک کھانا کھائے زیادہ کھانوں میں کم خوری بہت مشکل ہوتی ہے۔سو دوستوں کو اس تحریک کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہئے اور میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ ہمارے دوست عموماً ایک دوسرے پر نگاہ رکھیں گے اور ان کے اعمال کو تاڑیں گے مگر شکایت کی غرض سے نہیں جاسوسی کے طور پر نہیں کیونکہ جاسوسی اسلام میں منع ہے بلکہ اس نیت سے کہ دوسرے کی اصلاح ہو اور پھر اس شخص کے علاوہ اور کسی کے پاس ذکر نہ کیا جائے۔یہ میں پسند نہیں کروں گا کہ لوگ میرے پاس آئیں اور کہیں کہ فلاں شخص دو کھانے کھاتا ہے۔میں نے ایک کھانا کھانے کا کوئی حکم نہیں دیا میں نے صرف تحریک کی ہے اور اگر کوئی شخص اس تحریک کے باوجود دو کھانے کھاتا ہے تو اس کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ممکن ہے وہ اس تحریک کو ہی فضول سمجھتا ہو اور ممکن ہے وہ کسی خاص وجہ سے دو کھانے استعمال کرتا ہو۔بہر حال جبکہ میری طرف سے ایسا کوئی حکم نہیں تو میں نہیں چاہتا کہ اس کی خلاف ورزی پر کسی کو سزا دوں لیکن میں امید کرتا ہوں کہ جہاں تک دوستوں سے ممکن ہے وہ اس سوال پر غور کریں، وہ میرے دلائل کو سوچیں، وہ اسلام کی تاریخ کو دیکھیں، وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر نگاہ دوڑائیں اور پھر سوچیں کہ جو میں کہہ رہا ہوں وہ صحیح ہے یا نہیں۔اگر انہیں معلوم ہو کہ صحیح ہے تو اس پر عمل کریں اور اگر کوئی دوست غفلت میں مبتلا ہے اور اس کے محلے والا سمجھتا ہے کہ اس کو سمجھانا مناسب ہے تو اسے سمجھائے لیکن اسے بدنام نہ کرے اور نہ اس کی کمزوری کا کسی اور کے پاس ذکر کرے۔پس اس نظر سے اگر کوئی دوسرے بھائی کے اعمال کو دیکھے گا تو یہ تجس نہیں کہلائے گا۔تجسس اس کو کہتے ہیں کہ انسان اپنے بھائی کے حالات معلوم کرنے کے لئے مخفی ذرائع سے کام لے اور پھر لوگوں میں باتیں کرتا پھرے لیکن جب یہ اپنے بھائی کا نقص اپنی ذات تک محدود رکھتا ہے اور کسی اور کو کانوں کان بھی خبر نہیں ہونے دیتا تو یہ اپنے دوست کا محاسب ہے ، تنجس نہیں اور دوستوں کا محاسبہ کر نابڑی نیکی ہوتی ہے۔یہ یاد رکھو! کہ میں نے نگاہ رکھنا کہا ہے تجس نہیں کہا اور نگاہ رکھنا اور ہوتا ہے اور تجسس اور۔اگر یہ کسی کے مکان پر جاتا اور اور گھر والے کے بچے کو بلا کر پوچھتا ہے کہ آج تمہارے ہاں کیا کیا پکا ہے؟ تو یہ نجس ہے اور منع ہے لیکن نگاہ رکھنا یہ ہے کہ مثلاً باتوں باتوں میں کسی نے کہہ دیا کہ آج ہم نے گھر میں یہ یہ چیز پکائی ہے تو اس کی باتیں سن کر اسے نصیحت کر دی کہ یہ درست نہیں ایک ہی کھانا کھانا چاہئے۔پس اگر دوست اس کا خیال رکھیں تو میں سمجھتا ہوں یقینا قومی 349