تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 351

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 دسمبر 1936ء اس وقت کیا کریں گے؟ ابھی تو ہماری جماعت میں سے اکثر لوگ غریب ہیں لیکن جب ہم میں سے لوگوں نے محنت کرنی شروع کر دی اور سلطنتیں اور حکومتیں آگئیں تو پھر کتنی خرابیاں پیدا ہو جانے کا احتمال ہے؟ پھر تو وہی چالیس چالیس کھانا کھانے والے لوگ آجائیں گے جن کا ایک ایک لقمہ چکھ کر پیٹ بھر جائے گا اور شکایت کریں گے کہ انہیں بھوک نہیں لگتی۔غریب بھو کے مررہے ہوں گے اور ہماری جماعت میں سے وہ لوگ جن کے پاس بادشاہتیں ہوں گی ان کی کوشش یہ ہوگی کہ ساری دنیا کی دولتیں جمع کریں اور باقی ملکوں کو کنگال اور مفلس بنا دیں۔پس اس چھوٹی سی بات کی طرف اگر توجہ نہ کی گئی تو اس کے نتیجہ میں ہم دنیا کیلئے جنت نہیں دوزخ پیدا کرنے کا موجب ہو جائیں گے جیسے یورپ والے آج کل جہاں جاتے ہیں لوگ ان پر لعنتیں ڈالتے ہیں کہ وہ تمام ملکوں کی دولت جمع کر کے لے گئے لیکن اگر وہ اسلامی تعلیم پر عمل کرتے تو لوگ ان کے ہاتھ چومتے اور کہتے ، آگئے ہمیں غلامی کی قید سے آزاد کرانے والے۔پس یہ تقویٰ کی راہ ہے جو میں نے بتائی اور تقویٰ بھی کوئی نہ کوئی ذریعہ چاہتا ہے۔آخر بغیر کسی ذریعہ کے ہم تقومی کس طرح پیدا کر سکتے ہیں؟ جو جو بدیاں دنیا میں پیدا ہیں ان کے مٹانے کا کوئی نہ کوئی سامان چاہئے اور انہی سامانوں میں سے ایک یہ ہے کہ سادہ زندگی اختیار کی جائے اور کھانے پینے اور پہننے میں ایسا طریق اختیار کیا جائے جس میں اسراف نہ ہو اور جس میں ہمارے غریب بھائیوں کا حصہ شامل ہو اور امرا اور غربا کے تعلقات میں کوئی ایسی دیوار حائل نہ ہو کہ غریب امیر کو بلانے سے ڈرے اور امیر غریب کی دعوت قبول نہ کر سکے بلکہ ایسا تمدن قائم ہو جائے کہ ہر شخص دوسرے سے خوشی سے ملے اور تکلفات جاتے رہیں اور یہ سب کچھ سادہ زندگی سے حاصل ہو سکتا ہے۔میں نے کئی دفعہ بیان کیا ہے کہ ہمارے ملک میں پیروں نے لوگوں کو یہ عادت ڈال دی ہے کہ جہاں انہیں کوئی مرید ملے وہ اپنی جوتی اُتار دے اور میں دیکھتا ہوں کہ باوجود میرے روکنے کے ہماری جماعت کے بعض دوستوں پر اس کا اب تک اثر ہے اور چوتھے پانچویں روز کوئی نہ کوئی دوست ایسا ملنے آجاتا ہے کہ وہ ادب سے جوتی اُتارنا شروع کر دیتا ہے۔بس میری اور اس کی کشتی شروع ہو جاتی ہے میں کہتا ہوں جوتی پہنو اور وہ جوتی اُتار رہا ہوتا ہے۔تو اسلام تو یہ چاہتا ہے کہ بنی نوع انسان میں برادرانہ تعلقات پیدا ہوں بے شک ایک بڑا بھائی ہو اور دوسرا چھوٹا لیکن بہر حال اخوت اور برادری ہو اور اخوت ہی اسلام قائم کرنا چاہتا ہے۔غریب کو تم چھوٹا بھائی سمجھ لو اور امیر کو بڑا سمجھ لولیکن امیر اور غریب دونوں بھائی ہیں اور یہی روح ہے جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے اور یہ ادب کے بھی منافی نہیں۔کیا چھوٹا بھائی اپنے بڑے بھائی کا ادب نہیں کرتا اور کیا بڑا بھائی اپنے چھوٹے بھائی کیلئے قربانیاں نہیں کرتا؟ بے شک جب مسند پر بیٹھنے کا وقت آئے تو چھوٹا بھائی اپنے سے بڑے بھائی کو 351