تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 303
مک جدید ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 7 اگست 1936ء نے جس چیز کے ساتھ دُنیا پر غلبہ حاصل کیا وہ یہ تھی کہ آپ ﷺ نے صحابہ میں یہ روح پیدا کر دی کہ خواہ وہ آگ میں پھینکے جائیں یاسمندر میں ، ان کا فرض ہے کہ وہ اطاعت کریں۔مکہ والوں کے پاس اعلیٰ سے اعلیٰ فوجیں موجود تھیں، زیادہ سے زیادہ روپیہ جمع تھا کیونکہ وہ تاجر لوگ تھے ، ان کے پاس کھانے پینے کی چیزوں کی بہتات تھی، نیزوں کی بہتات تھی، تیروں کی بہتات تھی ، تلواروں کی بہتات تھی ، اعلیٰ نسل کے گھوڑوں کی بہتات تھی مگر ایک چیز نہیں تھی یعنی اطاعت اور فرمانبرداری کا مادہ نہیں تھا جس کی وجہ سے نہ ان کی فوجیں ان کے کام آئیں نہ ان کا روپیہ ان کے کام آیا نہ تیروں اور تلواروں نے انہیں فائدہ پہنچایا اور نہ گھوڑے اور اونٹ انہیں غالب کر سکے۔اس کے مقابلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں یہ چیز موجود تھی اور اسی چیز نے انہیں کامیاب کیا۔بدر کی جنگ کے موقع پر جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو کفار نے آپس میں مشورہ کے بعد ایک سردار کو مقرر کیا جو دیکھے کہ مسلمانوں کے کتنے آدمی ہیں تا انہیں تسلی ہو اور وہ فتح و شکست کے متعلق اندازہ لگا سکیں اُنہوں نے مسلمانوں کا جائزہ لینے کے لئے جو سردار مقرر کیا وہ نہایت زیرک اور ہشیار تھا مسلمانوں کو دیکھ کر جب وہ واپس گیا تو کہنے لگا آدمی تو وہ تین سو سوا تین سو ہیں اور یہ اس کا کہنا بالکل ٹھیک تھا کیونکہ صحابہ تین سو تیرہ تھے مگر میری نصیحت تمہیں یہی ہے کہ ان کا مقابلہ نہ کرو۔انہوں نے کہا یہ کیوں ؟ وہ اتنے تھوڑے ہیں اور تم ہمیں ان کا مقابلہ کرنے سے ڈراتے ہو۔وہ کہنے لگا اے میرے بھائیو! بے شک وہ تھوڑے ہیں مگر میں نے اونٹوں اور گھوڑوں پر آدمی سوار نہیں دیکھے بلکہ موتیں سوار دیکھی ہیں یعنی تم یہ خیال نہ کرو کہ تمہارے پاس نیزے ہیں اُن کے پاس نیزے نہیں تمہارے پاس تیر ہیں اُن کے پاس تیر نہیں ،تمہارے پاس تلواریں ہیں اُن کے پاس تلواریں نہیں، تمہارے پاس تیر کمانیں ہیں اُن کے پاس تیر کمانیں نہیں، تمہارے پاس گھوڑے ہیں اور اُن کے پاس گھوڑے نہیں، تم ہزاروں ہو اور وہ تین سو سوا تین سو ہیں بلکہ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ وہ ایک اشارہ پر مرجانے والے اور ایک آواز پر اپنی جانیں فدا کر دینے والے ہیں ایسے آدمیوں کا مقابلہ آسان نہیں کیونکہ میں نے آدمی نہیں دیکھے بلکہ موتیں دیکھیں ہیں جو اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار تھیں۔چنانچہ واقعات نے ثابت کر دیا کہ وہ موتیں ہی تھیں۔وہ سوائے موت کے اور کسی چیز کو نہیں جانتے تھے یا وہ خود مارے جاتے ہیں یا دوسروں کو مار دیتے ہیں۔میں نے کئی دفعہ واقعہ سنایا ہے کہ اسی جنگ میں دو انصاری لڑکے بھی شامل تھے جو نہایت چھوٹی عمر کے تھے جن میں سے ایک لڑکے کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فیصلہ فرما دیا تھا کہ وہ اتنی چھوٹی عمر کا ہے کہ اُسے لڑائی میں شامل نہیں کیا جاسکتا مگر وہ اتنا رو یا اتنا رویا کہ 303