تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 302

خطبه جمعه فرموده 7 اگست 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول اٹلی والوں میں پیدا کرنی شروع کر دی اس کا نتیجہ یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ اٹلی والوں کے پاس کوئی مذہب نہیں ان کے ساتھ خدا تعالیٰ کی وہ تائید نہیں جو بچے مذہب والوں کے ساتھ ہوا کرتی ہے۔محض فرمانبرداری کی روح کے نتیجہ میں وہی اٹلی جسے جنگ عظیم کے بعد فرانسیسیوں اور انگریزوں نے دھتکار کر پرے کر دیا تھا آج چیلنج دے رہا ہے، متواتر اور بار بار چیلنج دے رہا ہے کہ اگر کسی طاقت میں دم خم ہے تو اس کا مقابلہ کر لے مگر وہی طاقتیں جو پہلے اسے ذراذراسی بات پر گھورا کرتی تھیں اس طرح چپ کر کے بیٹھ گئی ہیں گویا وہ دنیا میں ہیں ہی نہیں۔آج سے بارہ سال پہلے کے اٹلی میں فرمانبرداری کی روح نہیں تھی اس لئے وہ ذلیل تھا مگر آج بارہ سال کے بعد اٹلی میں فرمانبرداری کی روح پیدا ہوگئی اس لئے وہ عزت کی نگاہوں سے دیکھا جانے لگ گیا۔بیعت کا مفہوم تو ہے ہی یہ کہ انسان اطاعت میں اپنے آپ کو فنا کر دے اور یہ مفہوم اتنا بلند ہے کہ دنیوی امور میں فرمانبرداری اس کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتی۔آج دنیا میں کون سا بادشاہ ہے جولوگوں سے بیعت لیتا ہو؟ بیعت تو سوائے اسلام کے اور کہیں نہیں۔پس بیعت کا مقابلہ دنیا کی فرمانبرداری نہیں کر سکتی۔بیعت کے معنی بیچ ڈالنے کے ہیں اور جب کسی نے اپنے آپ کو بیچ ڈالا تو پھر کون سی چیز ہے جو اس کی رہ سکتی ہے۔پس یہ گر کہ: مفہوم : أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ النساء:60) ایسا ہے کہ جب تک کوئی قوم اس پر عمل نہیں کرتی خواہ وہ سچے مذہب کی پابند ہو یا اس سے ناواقف کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔یہی روح ہے جس کو میں تحریک جدید کے ماتحت پیدا کرنا چاہتا ہوں مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایک طبقہ جماعت کا ایسا ہے کہ نہ وہ بیعت کا مفہوم سمجھتا ہے نہ تحریک جدید کا سمجھتا ہے اور نہ اطاعت کا مفہوم سمجھتا ہے۔بے شک ہر جماعت میں کچھ کمزور لوگ ہوتے ہیں مگر کمزور ہونا کوئی عزت کا موجب نہیں کہ ہم کہیں چونکہ تمام جماعتوں میں کمزور لوگ ہوا کرتے ہیں اس لئے ہمارے اندر بھی کمزور لوگوں کا ہونا قابل اعتراض نہیں۔کمزوری ایک بری چیز ہے اور اس کا مٹانا ہمارا فرض ہے اگر ہم اپنی کمزوری کو نہیں مٹا سکتے تو یقیناً ہم اپنی تباہی کے سامان آپ پیدا کرتے ہیں۔اطاعت اور وفاداری وہ چیزیں ہیں جن کے بغیر دنیا کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کا مقابلہ آخرکون سے سامان تھے جن سے کیا ؟ مال آپ ﷺ کے پاس نہیں تھا، سپاہیوں کی تعداد آپ کے کے پاس کم تھی، سوار آپ ﷺ کے پاس تھوڑے تھے، سامان جنگ آپ ﷺ کے پاس قلیل تھا، آپ ﷺ 302