تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 299
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 7 اگست 1936ء اسامہ کے لشکر کو عیسائیوں کے مقابلہ کے لئے بھیج دیں گے۔حضرت ابو بکر کی عادت تھی کہ جب وہ اپنی منکسرانہ حالت ظاہر کرنا چاہتے تو اپنے آپ کو اپنے باپ سے نسبت دے کر بات کرتے کیونکہ ان کے باپ نہایت مسکین اور غریب آدمی تھے۔حضرت عمر نے جب کہا کہ جیش اسامہ کو روک لیا جائے تو حضرت ابو بکر کہنے لگے کیا ابن ابوقحافہ کی طاقت ہے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم ایک لشکر کو بھیجیں اور وہ اسے روک لے؟ پھر فرمایا خدا کی قسم ! اگر کفار مدینہ کو فتح کریں اور مدینہ کی گلیوں میں مسلمان عورتوں کی لاشیں گتے گھسیٹتے پھریں تب بھی میں اُس لشکر کو نہیں روکوں گا جس کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کرنے کے لئے تیار کیا تھا۔اس کے بعد فرمایا کیا تم چاہتے ہوا بن ابو قحافہ کا اپنی خلافت میں پہلا کام یہ ہو کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حکم کو منسوخ کر دے؟ بظاہر یہ ایک چھوٹی سی بات معلوم ہوتی ہے اور زیادہ سے زیادہ اس سے بہادری کا وہ جذبہ ظاہر ہوتا ہے جو حضرت ابو بکر کے اندر تھا لیکن در حقیقت اس میں ان کی کامیابی کا راز تھا۔وہ قوت ارادی جس سے دنیا فتح ہوسکتی ہے اسی صورت میں پیدا ہوسکتی ہے جب کامل اطاعت اور فرمانبرداری کا مادہ انسان کے اندر ہو جب وہ حیلے جتیں نہ کرے، جب وہ اپنی تجویزوں اور اپنے قیاسات سے کام لینے کی بجائے اس حکم کو سنے جو اُسے دیا گیا ہو اور اُس پر پوری طرح عمل کرے۔اگر انسان اس بات کی عادت ڈال لے تو اس صورت میں اسے بہت جلد کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔پس ایک طرف میں دوستوں سے معذرت کرتا ہوں اور دوسری طرف انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ اس قسم کی کارروائیاں تمہیں قطعاً کامیابی عطا نہیں کر سکتیں جب تک تمہارے اندر ایسی فرمانبرداری پیدا نہ ہو کہ اگر تمہیں کہا جائے تلوار کی دھار پر اپنی گردنیں رکھ دو تو ایک بھی تم میں سے پیچھے نہ ہٹے اس وقت تک تمہیں اطاعت کا مقام حاصل نہیں ہوسکتا۔مومن کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ ابتدائی تحقیق کر کے دیکھ لیتا ہے کہ مدعی خدا کا رسول ہے یا نہیں؟ یا نبی کی جانشینی اور قائم مقامی کا دعوی کرنے والا صحیح معنوں میں اس کا قائم مقام اور جانشین ہے یا نہیں؟ لیکن جب وہ اسے مان لیتا ہے تو پھر وہ دوسری آواز نہیں نکالتا، اس کی اپنی آواز میں بند ہو جاتیں ہیں اور اس کے لئے صرف ایک ہی راستہ کھلا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ وہ اس کی فرمانبرداری اور اطاعت کرتا چلا جائے خواہ اُسے آگ میں کودنا پڑے یا سمندر میں چھلانگ لگانی پڑے۔اسلام تو اسلام جب یہ بات کافروں میں پیدا ہو جاتی ہے تو وہ بھی دنیا کو فتح کر لیتے ہیں۔نپولین ایک معمولی ماں باپ کا بیا تھا لیکن وہ ایسے وقت میں فرانس میں پیدا ہوا جب فرانس کی حالت بہت 299