تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 300

خطبه جمعه فرموده 7 اگست 1936ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد اول گر رہی تھی۔فرانس اس سے پہلے بہت بڑی طاقت رکھتا تھا اور سارے یورپ پر اس کا رُعب اور دبدبہ تھالیکن نپولین کے زمانہ میں فرانس اپنی عروج کی حالت سے گر رہا تھا نپولین نے اسے سنبھالنا چاہا اور اس نے لوگوں سے یہ کہنا شروع کر دیا کہ جب تک تم میں تفرقہ اور شقاق ہے تم کامیاب نہیں ہو سکتے تم اطاعت اور فرمانبرداری کا مادہ اپنے اندر پیدا کر و جیت جاؤ گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ملک کی حالت دیکھ کر دردمند لوگ اس کے ارد گرد جمع ہونے شروع ہو گئے اور انہوں نے اطاعت اور فرمانبرداری کا بہترین نمونہ دکھایا ایسا نمونہ کہ خود اس نے نپولین کی زندگی میں بھی تغیر پیدا کر دیا۔نپولین ایک دفعہ ایک بڑی جنگ کے بعد فرانس کے پاس اٹلی کے نیچے ایک جزیرہ میں قید کر دیا گیا۔کچھ لوگوں کی مدد سے آخر وہ آزاد ہوا اور فرانس کے ساحل پر اترا اس وقت نئی حکومت قائم ہو چکی تھی اور نیا نظام تھا۔بادشاہ نے پادریوں کو بلایا اور ان کے ذریعہ جرنیلوں سے بائبل پر ہاتھ رکھ رکھ کر قسمیں لیں اور جرنیلوں کے ذریعہ تمام سپاہیوں سے قسمیں لیں کہ وہ پوری طرح حکام کی اطاعت اور فرمانبرداری کریں گے۔بادشاہ نے یہ قسمیں اس لئے لیں کہ وہ جانتا تھا کہ نپولین نے لوگوں کے دلوں میں ایسی روح پیدا کر دی ہے کہ جب بھی نپولین ان کے سامنے آئے گا وہ نئی حکومت سے اپنے سارے تعلقات بھول جائیں گے اور اسی کے گرد جمع ہو جائیں گے، اس طرح قسمیں لینے کے بعد جنرل (Nay) نے کورئیس لشکر بنایا گیا اور وہ بیس ہزار سپاہی لے کر نپولین کے مقابلہ کو روانہ ہوا۔نپولین کے ساتھ صرف چند سو آدمی تھے اور وہ بھی اکثر زمیندار تھے جولڑائی کے فن سے چنداں واقف نہ تھے اور ان کے پاس ہتھیاروں کی اتنی کمی تھی کہ بعض کے پاس صرف درانتیاں تھیں۔اتفاقاً نپولین کے دستہ اور شاہی فوج کی مڈ بھیڑ ایک ایسے مقام پر ہوئی جہاں درہ بہت چھوٹا تھا اور صرف چند آدمی کندھے سے کندھا ملا کر گزر سکتے تھے۔نپولین نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ آگے بڑھو! وہ آگے بڑھے تو شاہی فوج نے اُن پر گولیاں چلا ئیں اور وہ مارے گئے پھر اس نے بعض آدمی بھیجے وہ بھی مارے گئے۔آخر سپاہیوں نے اُسے کہا کہ آگے بڑھنے کی کوئی صورت نہیں دشمن سامنے کھڑا ہے اور وہ کہتا ہے کہ ہم بائبل پر ہاتھ رکھ کر اور قسمیں کھا کر آئے ہیں کہ نپولین کے سپاہیوں کو مار ڈالیں گے اور چونکہ دو چار سپاہیوں کے سوا ہم میں سے زیادہ بڑھ نہیں سکتے کیونکہ درہ چھوٹا ہے اس لئے وہ گولیوں سے ہلاک کر دیتے ہیں اور ہم مقابلہ بھی نہیں کر سکتے۔میں اس بات کی مثال دے رہا تھا کہ نپولین نے ان لوگوں میں کس طرح اطاعت اور فرمانبرداری کا مادہ پیدا کر دیا تھا۔چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب سپاہیوں نے کہا کہ شاہی فوج کے آدمی 300