تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 298

خطبه جمعه فرموده 7 اگست 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد اول رحم صحابہ نہیں اور تم میں خدا تعالیٰ نے کیوں فرق رکھا ہے؟ ان کو خدا تعالیٰ نے اُٹھایا اور چند سالوں میں ہی آسمان پر پہنچا دیا اور وہ لوگ جن کے بوٹ عربوں کی گردنوں پر تھے پندرہ بیس سال کے عرصہ میں ہی ان کی گردنوں پر عربوں کی جوتیاں رکھی گئیں۔یہ بات یونہی تو نہیں ہو گئی۔ان کے اندر فرمانبرداری کی روح تھی وہ جانتے تھے کہ فرمانبرداری اور اطاعت کسے کہتے ہیں؟ وہ جانتے تھے کہ عقل سے کام کرنا کسے کہتے ہیں؟ ان کا یہ حال تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ وعظ فرمارہے تھے آپ ﷺ نے بعض لوگوں کو کناروں پر کھڑے دیکھا تو فرمایا بیٹھ جاؤ! حضرت عبد اللہ بن مسعود گلی میں سے مسجد کی طرف آرہے تھے ان کے کانوں میں جو نہی یہ آواز پڑی کہ بیٹھ جاؤ ! وہ وہیں بیٹھ گئے اور انہوں نے گھسٹ گھسٹ کہ مسجد کے دروازہ کی طرف آنا شروع کر دیا جہاں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تقریر فرما رہے تھے۔کسی نے پوچھا یہ کیا کر رہے ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میرے کانوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز آئی تھی کہ بیٹھ جاؤ اس لئے میں گلی میں ہی بیٹھ گیا اور میں نے گھسٹ گھسٹ کر مسجد کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔کسی نے کہا آپ مسجد میں داخل ہونے کے بعد بیٹھتے تو عبد اللہ بن مسعودؓ نے کہا کہ اگر داخل ہونے سے پہلے مرجاتا تو خدا تعالیٰ کو کیا جواب دیتا؟ یہ وہ روح تھی جس کی وجہ سے مسلمانوں نے فتح پائی اور انہوں نے دنیا میں اتنا عظیم الشان تغیر پیدا کر دیا کہ حیرت سے دنیا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور وہ استعجاب سے انگشت بدندان ہوگئی۔اس فرمانبرداری کے مظاہرہ کی ایک اور مثال میں سناتا ہوں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مرض الموت سے بیمار ہوئے تو نے وفات سے کچھ دن پہلے ایک لشکر رومی حکومت کے مقابلہ کے لئے تیار کیا اور اُسامہ بن زید کو اس کا سردار مقرر فرمایا تھا، ابھی یہ لشکر روانہ نہیں ہوا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی اور سارے عرب میں بغاوت ہوگئی۔اس بغاوت کا حلقہ اثر اتنا وسیع ہو گیا کہ صرف تین مقام ایسے تھے جہاں نماز با جماعت ہوتی تھی ایک مکہ میں ایک مدینہ میں اور ایک چھوٹے سے گاؤں میں، ان کے سوا عرب میں ہر جگہ بغاوت رونما ہو گئی تھی۔بڑے بڑے صحابہ نے مل کر مشورہ کیا کہ اس موقع پر اُسامہ کا لشکر باہر بھیجنا درست نہیں کیونکہ ادھر سارا عرب مخالف ہے ادھر عیسائیوں کی زبر دست حکومت سے لڑائی شروع کردی تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلامی حکومت بالکل درہم برہم ہو جائے گی۔حضرت عمر حضرت ابو بکر کے پاس پہنچے اور کہنے لگے ہم عرض کرنا چاہتے ہیں کہ یہ موقع نہیں کہ اسامہ کا لشکر باہر بھیجا جائے آپ اس لشکر کو روک لیں اور پہلے عرب کے باغیوں کا مقابلہ کریں جب ہم انہیں دبالیں گے تو 298