تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page iii
جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجے سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں، باہر آویں۔اور تا دینِ اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور تا حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور تالوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں، جو چاہتا ہوں سو کرتا ہوں اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قو میں اس سے برکت پائیں گی۔(اشتہار 20 فروری 1886ء مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 100 ت102) پس اس پیش گوئی کے موافق حضرت مصلح موعود خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کا ظہور ہوا۔آپ کے دور خلافت میں جماعت نے بے شمار سنگ میل عبور کیے، کئی فتوحات جماعت کے حصہ میں آئیں۔الغرض آپ کا مبارک دور بے انتہا فضلوں اور کارناموں سے پر ہے۔آپ نے اپنے با برکت دور میں کئی تحریکات کا آغاز فرمایا۔انہیں میں سے ایک تحریک جدید“ ہے۔اس الہی تحریک کا آغاز 1934ء میں ہوا۔یہ وقت جماعت کے لئے انتہائی نازک تھا ہر طرف سے جماعت پر حملے ہور ہے تھے۔دشمن پوری طاقت اور پورے زور کے ساتھ حملے کے منصوبے بنارہا تھا۔اور اپنے زعم میں جماعت کو نیست و نابود کرنے کو تیار کھڑا تھا۔اب کے صرف احرار کا حملہ نہ تھا بلکہ حکومت بھی انہی کے ساتھ تھی۔ایسے خطر ناک حالات میں حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ نے اس الہی تحریک کا آغاز فرمایا اور اس کشتی نوح کو نصرت الہی سے طوفان سے نکال کر امن میں لے آئے۔انہیں حالات کا ذکر کرتے ہوئے آپ نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں:۔آپ لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ وقت بہت نازک ہے۔ہر طرف سے مخالفت ہو رہی ہے اور اس کا مقابلہ کرتے ہوئے سلسلہ کی عزت اور وقار کو قائم رکھنا آپ لوگوں کا فرض ہے۔۔۔آخر ہم نے کیا قصور کیا ہے ملک کا یا حکومت کا کہ ہم سے یہ دشمنی اور عناد کا سلوک روارکھا جارہا ہے؟ ہم کسی کے گھر پر حملہ آور نہیں ہوئے، حکومت سے اس کی حکومت نہیں مانگی، رعایا سے اس کے اموال نہیں چھینے بلکہ اپنی مساجد ان کے حوالے کر دیں۔اپنی بیش قیمت جائیدادیں ان کو دے کر ہم میں سے بہت سے لوگ قادیان میں آگئے کہ امن سے خدا کا نام لے سکیں مگر پھر بھی ہم پر حملے کئے جاتے ہیں اور حکومت بھی ہمارے ہاتھ باندھ کر ہمیں ان کے آگے پھینکنا چاہتی