تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page iv of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page iv

ہے اور کوئی نہیں سوچتا کہ ہمارا قصور کیا ہے؟۔66 وو خطبه جمعه فرموده 26 اکتوبر 1934 ء) اس تحریک کے آغاز کے حالات اور اس تحریک کے ثمرات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :۔۔۔۔۔یہ زمانہ ہمارے لئے نہایت نازک ہے۔مجھ پر بیسیوں راتیں ایسی آتی ہیں کہ لیٹے لیٹے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جنون ہونے لگا ہے اور میں اٹھ کر ٹہلنے لگ جاتا ہوں۔غرض یہی نہیں کہ واقعات نہایت خطرناک پیش آرہے ہیں بلکہ بعض باتیں ایسی ہیں جو ہم بیان نہیں کر سکتے تو سلسلہ کے خلاف ایسے سامان پیدا ہور ہے ہیں کہ جو میری ذات کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔۔۔۔تو میں سمجھتا ہوں کہ وقت ایسا ہے کہ ہمیں اہم قربانی کی ضرورت ہے۔۔آج ہمارے جھنڈے کو گرانے کی بھی دشمن پوری کوشش کر رہا ہے اور سارا زور لگا رہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں جو جھنڈا دے گئے ہیں اسے گرا دے۔اب ہمارا فرض ہے کہ اسے اپنے ہاتھوں میں پکڑے رہیں اور اگر ہاتھ کٹ جائیں تو پاؤں میں پکڑ لیں اور اگر اس فرض کی ادائیگی میں ایک کی جان چلی جائے تو دوسرا کھڑا ہو جائے اور اس جھنڈے کو پکڑ لے۔یاد رکھو خدا تعالیٰ کے لئے مرنے والے کو کوئی مار نہیں سکتا اس بات کو پلے باندھ لو اور جب تم یہ ارادہ کر لو گے کہ خدا تعالیٰ کے لئے مرنا ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت تم کو مار نہ سکے گی۔ہاں تم پر وہ موت آئے گی جو نبیوں کو بچے دل سے ماننے والوں پر آتی ہے مگر ناکامی کی موت نہیں آسکتی کیونکہ تم جس پر گرو گے وہ چکنا چور ہو جائے گا اور جو تم پر گرے گا وہ بھی چکنا چور ہو جائے گا“۔رپورت مجلس شوری منعقد : 19 تا 21 اپریل ۱۹۳۵ ء ) تحریک جدید کے الہی تحریک ہونے کے متعلق فرماتے ہیں:۔وو یہ مت خیال کرو کہ تحریک جدید میری طرف سے ہے۔نہیں بلکہ اس کا ایک ایک لفظ میں قرآن کریم سے ثابت کر سکتا ہوں اور ایک ایک حکم رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ارشادات میں دکھا سکتا ہوں۔۔۔۔پس یہ خیال مت کرو کہ جو میں نے کہا ہے وہ میری طرف سے ہے بلکہ یہ اس نے کہا ہے جس کے ہاتھ میں تمہاری جان ہے۔میں اگر مر بھی جاؤں تو وہ دوسرے سے یہی کہلوائے گا اور اس