تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page ii of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page ii

25 بسم الله الرحمان الرحيم پیش لفظ اللہ تعالیٰ نے جہاں انسان کی جسمانی ضروریات کو پورا کرنے کا بھر پور انتظام فرمایا ہے وہیں اس کی روحانی ضروریات کو پورا کرنے کا بھی خاطر خواہ بندوبست کر رکھا ہے۔اسی کی ایک کڑی بعثت انبیاء ہے۔اور ان کی وفات کے بعد ان کے جاری کردہ سلسلے کواللہ تعالیٰ ان کے خلفاء کے ذریعے آگے بڑھاتا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔غرض دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے۔(۱) اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے۔(۲) دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا۔اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردد میں پڑ جاتے ہیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی را ہیں اختیار کر لیتے ہیں تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبر دست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔پس وہ جوا خیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے“۔(رساله الوصیت، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 304) اس زمانہ میں بھی اللہ تعالیٰ کی یہ قدیم سنت بڑی شان سے جلوہ گر ہے۔چنانچہ سنت اللہ کے موافق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد نظام خلافت قائم ہوا۔انہیں خلفاء کرام میں سے ایک وہ موعود خلیفہ بھی تھا جس کے متعلق نوشتے قدیم سے خبر دے رہے تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کواللہ تعالیٰ نے آپ کے متعلق خبر دی کہ میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح و ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔اے مظفر تجھ پر سلام ! خدا نے یہ کہا تا وہ