تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 271

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 15 مئی 1936ء تمہاری حفاظت کرے گی ؟ اس حکومت کے ایک حصہ نے بتا دیا ہے کہ جب وہ بگڑے گی قانون بھی مٹ جائے گا۔بھلا وہ کونسا قانون تھا جس کے ماتحت ایک افسر نے دوسکھ نمبرداروں کو بلا کر یہ کہا کہ ہمیں معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ خلیفہ قادیان نے تم کو بلا کر پچاس پچاس روپے دیئے تھے کہ عید گاہ کے کیس میں شہادت بدل دو؟ اور اس طرح انہیں جھوٹ بولنے کی تحریک کی اور ایک دوسرے افسر نے ملاقات کے وقفہ میں صاف لفظوں میں ان کو ایسی گواہی دینے کا مشورہ دیا۔کیا اس امر کا کروڑواں بلکہ اربوں کھر بواں حصہ بھی سچ ہے؟ اور انگریزی حکومت کے بعض افسر اگر اتنا جھوٹ بول سکتے ہیں تو کیا تم سمجھتے ہو کہ بعض دوسرے افسر کسی وقت جھوٹ بول کر تمہیں سزائیں نہیں دلوا سکتے ؟ جب خدا کسی قوم کو سزا دینا چاہتا ہے تو سب کچھ کر ا لیتا ہے اس لئے اطمینان سے نہ بیٹھو کہ تمہارے سر پر تلوار منڈلا رہی ہے۔صرف خدا پر توکل کرو۔حاکموں کے دل بھی خدا کے قبضہ میں ہیں وہ چاہے تو انہیں نیک بنا سکتا ہے۔پس تم یہ مت کہو کہ خدا ہم سے ضرور یوں معاملہ کرے گا بلکہ خدا والے بنو پھر تمہارے لئے امن ہوگا خواہ وہ انگریزوں۔کرا دے خواہ ہندوستان میں آئندہ قائم ہونے والی حکومت کے ذریعہ اور خواہ تمہارے اپنے ہاتھوں سے جو سب سے بہتر ہے مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ غفلتوں اور سستیوں کو ترک کر دو۔میں محسوس کرتا ہوں کہ جماعت میں آج گزشتہ سال سے دسواں حصہ بھی جوش نہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے خدا تعالیٰ کوئی لٹھ ہی بھیجے تو ان کی آنکھیں کھلتی ہیں۔پچھلے سال لٹھ پڑتے تھے تو تم بیدار تھے۔آج خدا نے ان میں کمی کر دی ہے تو تم پھر سو گئے ہو۔پچھلے سال تحریک جدید کے دوماہ کے اندر اندر آمد تحریک بھی بڑھ گئی تھی مگر اس سال گو وعدے زیادہ ہیں مگر آمد دو تہائی ہے اور اس حساب سے اندازہ ہے کہ سال کے آخر تک 75-74 ہزار آمد ہوگی مگر خرچ کا بجٹ ایک لاکھ اٹھائیس ہزار ہے۔ممکن ہے میں غلطی پر ہوں مگر میرا خیال یہی ہے کہ یہ ادنی ایمان ہے کہ انسان کہ دے میں کچھ نہیں کروں گا مگر جو کہتا ہے اور پھر کرتا نہیں وہ مومن نہیں غدار اور منافق ہے۔میں نے کئی بار کہا ہے کہ کوئی چندہ مت لکھاؤ جو دے نہ سکو۔جبری چندوں کے متعلق تو کوئی کہہ سکتا ہے زبردستی لئے جاتے ہیں مگر تحریک جدید کے چندہ کے متعلق تو میں نے صاف کہا ہوا ہے کہ جس کی مرضی ہو وہ دے اور جتنا کوئی چاہے دے۔پھر بھی جو لکھوانے کے باوجود نہیں دیتا وہ یہ بتاتا ہے کہ اُسے دین کی کوئی پروا نہیں وہ صرف نام لکھوا کر واہ واہ چاہتا ہے اور یہی بات بڑھتے بڑھتے جنون تک پہنچ جایا کرتی ہے۔ایک شخص کا مجھے خط آیا ہے کہ گزشتہ سال میں نے اس اس قدر شاید میں چالیس روپیہ کا وعدہ کیا تھا مگر دے کچھ نہیں سکا اس سال میرا وعدہ تین ہزار کا لکھ 271