تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 16
خطبہ جمعہ فرمود 23 نومبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول غافل رکھ کر کامیابی حاصل کرے۔پس ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے سکیم کے بعض حصے ایسے ہیں کہ میں انہیں تفصیلاً بیان نہیں کروں گا کیونکہ اگر انہیں بیان کر دوں تو نتیجہ اتنا اہم اور شاندار نہیں نکل سکتا جتنا بعض تفاصیل کو نظر انداز کرنے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔مجھے یہ بات اس لئے وضاحت سے بیان کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے کہ قرآن کریم میں خفیہ انجمنیں بنانے اور پوشیدہ کارروائیاں کرنے کی ممانعت ہے اور میں نے اس لئے یہ بات کھول کر بیان کی ہے کہ دونوں میں فرق معلوم ہو سکے۔اگر کوئی خفیہ انجمن کسی کو مارنے یا قتل کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو یہ ایسا فعل نہیں کہ کسی وقت بھی اگر اس کو ظاہر کیا جائے تو لوگ کہیں کہ یہ بہت اچھا فیصلہ ہے۔کوئی ایسی خفیہ کارروائی جو کسی کوقتل کرنے یا اس کے گھر کو یا کھلیان کو آگ لگانے کے متعلق ہو جب بھی ظاہر ہوگی ہر شخص یہی کہے گا کہ یہ بہت بر افعل ہے لیکن میں جو بات کہتا ہوں وہ ایسی نہیں۔میں علی الاعلان کہتا ہوں کہ ہم تبلیغی کام کریں گے۔ہاں اس میں ایک حد تک اخفا ہوگا یعنی محاذ جنگ کی یا ذرائع تبلیغ کی خبر دشمن کو نہیں دیں گے۔وہ تبلیغ ہوگی جو جائز فعل ہے فرق صرف یہ ہوگا کہ ذرائع تبلیغ اور مقام کو پوشیدہ رکھیں گے او اس طرح تبلیغ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کریں گے لیکن اس ساری سکیم میں کوئی دھوکے کا عنصر موجود نہ ہوگا۔پس ایسی تحریکات میں جو میں کروں گا مومنین کو ایک حد تک ایمان بالغیب لانا پڑے گا اور یہ بھی ان کے ایمان کی ایک آزمائش ہو گی۔قرآن کریم کی پہلی سورۃ میں ہی جو مقدمہ یا دیباچہ کے بعد ہے یعنی سورۃ بقرہ اس کی ابتدا میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ) الَّذِينَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ (البقرة:2تا4) تو مومن کو کچھ ایمان بالغیب بھی چاہئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ رضی اللہ عنہم کو بدر کے موقع پر مدینہ سے نکال کر لے گئے مگر خدا تعالیٰ سے علم پانے کے باوجود ان کو یہ نہیں بتایا کہ لڑائی یقینا ہونے والی ہے۔بدر کے قریب پہنچ کر ان کو جمع کیا اور اس وقت بتایا کہ میں نے کہا تھا اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعدہ ہے کہ دو میں سے ایک چیز ضرور مل کر رہے گی یا تو وہ قافلہ جو شام سے آنے والا ہے اور یا دوسرا فریق جو دھمکی دینے والا ہے مل جائے گا۔اب میں تم کو بتاتا ہوں کہ ان دو فریق میں سے اللہ تعالیٰ نے جنگ کو ہی چنا ہے۔صحابہ رضی اللہ عنہم بوجہ پورا علم نہ ہونے کے تیاری کر کے نہیں آئے تھے اور بہت سے تو گھروں سے ہی نہ آئے تھے اور بظاہر یہ حالت مسلمانوں کو کمزور کرنے والی تھی مگر مصلحت یہی تھی کہ 16