تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 17

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 23 نومبر 1934ء سارے حالات ظاہر نہ کئے جائیں۔ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تفاصیل مدینہ میں ہی معلوم تھیں یا مدینہ سے باہر نکلنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بتا ئیں مگر بہر حال قرآن کریم اور حدیث سے یہ ثابت ہے کہ کچھ عرصہ تک اس علم کو اخفا میں رکھا گیا اس لئے عین موقع پر چونکہ لوگ تیار نہ تھے آپ نے دریافت فرمایا کہ اب بتاؤ کیا منشا ہے؟ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر صحابہ رضیاللہعنہم لڑائی نہ کرنے کا مشورہ دیتے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی نہ کرتے۔خدا تعالیٰ کے سامنے صرف آپ ہی جواب دہ تھے اس لئے اگر صحابہ رضی اللہ عنہم لڑائی نہ کرنے کا مشورہ دیتے تو آپ پھر بھی جنگ کرتے اور کہتے کہ مجھے خدا تعالیٰ کا حکم ہے اس لئے میں اکیلا جاتا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پوچھنے کا مطلب صرف صحابہ رضی اللہ عنہم کو ثواب میں شامل کرنا تھا۔غرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ پوچھا اور اس پر مہاجرین کھڑے ہوئے اور کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم جنگ کے لئے حاضر ہیں مگر اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دوبارہ پوچھا کہ اے دوستو! مشورہ دو کیا کرنا چاہئے؟ پھر مہاجرین نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تیار ہیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہ بارہ فرمایا دوستو ! مشورہ دو کیا کرنا چاہئے ؟ تب ایک انصاری کھڑے ہوئے اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ہم سے ہے۔ہم نے سمجھا تھا کہ جو مشورہ دیا گیا ہے وہ ہم سب کی طرف سے ہے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ انصار جواب دیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میرا یہی منشا ہے۔تب اُس صحابی نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! شائد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معاہدہ کا خیال ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں بلانے کے وقت کیا گیا تھا۔( نومسلمین نے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ آنے کی تحریک کی تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان لوگوں سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ اگر دشمن ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچانے یا پکڑنے کے لئے مدینہ پر حملہ کریں گے تو مدینہ کے لوگ اپنی ہر چیز قربان کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کریں گے لیکن اگر مدینہ سے باہر جنگ ہو تو وہ ذمہ دار نہیں ہوں گے۔اس صحابی رضی اللہ عنہ کا اسی معاہدہ کی طرف اشارہ تھا) یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ وہ وقت تھا جب ہمیں اسلام کی پوری طرح خبر نہ تھی اور اب اس پیغام کی اہمیت کا ہمیں علم ہو چکا ہے۔کیا اب بھی ہم کسی قربانی سے دریغ کر سکتے ہیں؟ کچھ منزلوں پر سمندر تھا، اُس جہت کی طرف اشارہ کر کے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس سمندر میں گھوڑے ڈالنے کا حکم دیجئے ہم کسی چون و چرا کے 17