تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 248
خطبہ جمعہ فرموده 20 دسمبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول پھر نا اور اس سے فائدہ اُٹھا نا دماغ کے لئے بہت مفید ہوتا ہے اور جب تحریک جدید کے بورڈ کھلی ہوا میں رہ کر مشقت کا کام کریں گے تو جہاں ان کی صحت اچھی رہے گی وہاں ان کا دماغ بھی ترقی کرے گا اور وہ دنیا کے لئے مفید وجود بن جائیں گے۔پس یہ تحریک آج میں پھر کرتا ہوں کہ جماعت کے احباب اپنے بچوں کو بورڈ نگ تحریک جدید میں داخل کریں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے جو نوجوان بچوں کے لئے سپر نٹنڈنٹ مقرر ہیں وہ بچوں کی تعلیم اور ترقی میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں اور تن دہی کے ساتھ اپنے فرائض کو ادا کر رہے ہیں میں یہ نہیں کہتا کہ وہ ہر لحاظ سے پورا کام کر رہے ہیں ، ابھی ان کے لئے بھی ترقی کی بہت گنجائش ہے لیکن بہر حال وہ اس کام میں دلچسپی لے رہے ہیں اور چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ انہیں بچپن سے دین کی طرف رغبت ہے اس لئے امید ہے کہ اگر انہوں نے اس میں ترقی کرنے کی کوشش کی تو وہ خود بھی فائدہ حاصل کر سکتے اور بچوں کو بھی فائدہ پہنچا سکتے ہیں علاوہ ازیں اس ذریعہ سے بے کاری کا بھی ایک حد تک ازالہ ہوسکتا ہے۔پس یہ تین تحریکیں آج میں پھر دُہراتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ دوست ان کی طرف توجہ کریں گے۔تمام دوستوں کو یا درکھنا چاہئے کہ کام ہمیشہ کرنے سے ہوتے ہیں باتیں کرنے سے نہیں ہوتے۔میں نے پچھلے دو خطبوں میں، ایک پچھلے جمعہ کے خطبہ میں ایک چار پانچ پہلے جمعوں میں سے کسی ایک جمعہ کے خطبہ میں ، بیان کیا تھا کہ اگر تم سب کے سب مجھے چھوڑ دو تب بھی خد تعالی غیب سے سامان پیدا کر دے گا لیکن یہ ہو نہیں سکتا کہ جو بات خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہی اور جس کا نقشہ اس نے مجھے سمجھا دیا ہے وہ نہ ہو وہ ضرور ہو کر رہے گی خواہ دوست دشمن سب مجھے چھوڑ جائیں اس پر بعض دوستوں نے شکوہ کیا ہے کہ آپ نے یہ الفاظ کیوں کہے ؟ ہمیں ان سے تکلیف ہوتی ہے ہم تو آپ پر اپنی جان اور اپنا مال سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن یہ الفاظ اس قابل نہیں تھے کہ اس پر انہیں تکلیف ہوتی بلکہ اس قابل تھے کہ وہ بھی خدا تعالیٰ کے دین کے متعلق اسی قسم کے الفاظ کہتے یہ خدا تعالیٰ کا معاملہ ہے اور خدا تعالیٰ کے معاملہ میں رقابت کی ضرورت ہوتی ہے۔میں تو چاہتا ہوں کہ ہم میں سے کوئی شخص ایسانہ ہو جس کے دل میں یہ احساس نہ ہو کہ خواہ ساری دنیا احمدیت کو چھوڑ دے پھر بھی وہ خدا کے سلسلہ کو پھیلا کر رہے گا۔پس یہ صدمہ والی بات نہ تھی بلکہ رقابت والی بات تھی اور تم میں سے ہر شخص کو میری طرح یہ کہنا چاہئے تھا کہ اگر ساری دنیا الگ ہو جائے اور کوئی بھی ہمارے ساتھ نہ رہے پھر بھی احمد بیت دنیا کے کناروں تک پھیلا کر چھوڑیں گے کیونکہ یہ خدا کا سلسلہ ہے اور کوئی نہیں جو اسے روک سکے۔میں نے اس کے 248