تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 247
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 20 دسمبر 1935ء دور ہے اور اسی وقت آپ کے دل میں یہ بات جم گئی کہ آپ دنیا میں کوئی عظیم الشان کام کر کے رہیں گے۔یہ ایک نکتہ ہے مگر اسی کو نظر آسکتا ہے جسے روحانی آنکھیں حاصل ہوں۔وہ اس وقت بغیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کوئی بات کئے چلے گئے مگر چونکہ یہ بات دل میں جم چکی تھی اس لئے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعویٰ کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق دی اور پھر اس قدرا خلاص بخشا کہ انہیں کسی کی مخالفت کی پرواہی نہ رہی۔تو تیزی کے ساتھ کام کرنے میں اوقات میں بہت بڑا فرق پڑ جاتا ہے۔پس بچوں کو جلدی کام کرنے اور جلدی سوچنے کی عادات ڈالی جائے مگر جلدی سے مراد جلد بازی نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر تیزی سے کام کرنا ہے۔جلد باز شیطان ہے لیکن سوچ سمجھ کر جلدی کا کام کرنے والا خدا تعالیٰ کا سپاہی ہے۔پھر میرا منشا ہے کہ نہ صرف موجودہ بورڈنگ تحریک جدید کو ترقی دی جائے بلکہ ایسا ہی ایک بورڈنگ مدرسہ احمدیہ کے ساتھ قائم کیا جائے اور اسی طرح کا ایک بورڈ نگ لڑکیوں کیلئے بنایا جائے اور میر امنشا ہے کہ آہستہ آہستہ لڑکوں کو اتنا تیز کام کرنے کا عادی بنایا جائے کہ وہ علاوہ تعلیم کے دوسرے کاموں کے لئے بھی وقت نکال سکیں اور ہو سکے تو اپنے لئے غلہ بھی خود پیدا کریں، سبزیاں خود پیدا کریں یعنی کھیتی باڑی کا بھی کام کریں۔اس سے دو فائدے ہوں گے: ایک تو یہ کہ ان میں سے کبر مٹ جائے گا اور دوسرے یہ کہ بڑے ہو کر وہ نوکریوں پر نظر نہیں رکھیں گے بلکہ پیشوں کی طرف توجہ دیں گے۔پھر اس کا یہ بھی فائدہ ہوگا کہ ان کی صحت اچھی رہے گی۔ابھی ہمارے پاس اتنی جگہ نہیں کہ لڑکوں سے کھیتی باڑی کا کام لیا جائے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ بورڈنگ میں یہ نقص ہے کہ اس کے ارد گرد عمارتیں بن گئی ہیں اور کھیتی باڑی کے لئے کوئی زمین نہیں رہی۔بورڈ نگ ایسی جگہ ہونا چاہئے جس کے ارد گرد کم از کم چالیس پچاس ایکڑ جگہ ہو اور بچوں کا یہ کام ہو کہ وہ صبح اٹھتے ہی کھیتی باڑی کا کام کریں پھر مرغی خانہ کا کام بھی انہیں سکھایا جائے اور اس طرح اپنے لئے وہ سبزی خود پیدا کریں ، غلہ خود پیدا کریں اور اگر گوشت کی ضرورت ہو تو وہ بھی مرغیاں ذبح کر کے اپنے لئے آپ مہیا کیا جائے اس طرز پر کام کرنے کے نتیجہ میں جہاں ماں باپ کے اخراجات کم ہو جائیں گے وہاں لڑکوں میں کام کرنے کی عادت پیدا ہو گی ، ان کا ذہن تیز ہوگا اور صحت مضبوط ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو میں نے دیکھا ہے آپ دن بھر گھر کے اندر کام کرتے لیکن روزانہ ایک دفعہ سیر کے لئے ضرور جاتے اور چوہتر پچھتر برس کی عمر ہونے کے باوجود سیر پر اس قدر با قاعدگی رکھتے کہ آج وہ ہم سے نہیں ہو سکتی۔ہم بعض دفعہ سیر پر جانے سے رہ جاتے ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام ضرور سیر کے لئے تشریف لے جاتے۔تو کھلی ہوا کے اندر چلنا 247