تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 249
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 20 دسمبر 1935ء صلى ساتھ ایک مثال بھی دی تھی اور بتایا تھا کہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے قرب میں چھوٹے اور بڑے کا کوئی سوال نہیں ہوتا وہ یہ تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ آپ جو کام بھی شروع فرماتے دائیں طرف سے شروع کرتے ایک دفعہ آپ مجلس میں تشریف رکھتے تھے کہ کوئی شخص دود لایا۔آپ نے تھوڑا سا پی کر چاہا کہ باقی تبرک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیں مگر وہ اس وقت آپ کے بائیں طرف تھے اور دائیں طرف ایک نوجوان بیٹھا تھا آپ نے دائیں طرف منہ کر کے اس نوجوان سے پوچھا کہ میاں ! اگر تم اجازت دو تو میں یہ دودھ ابو بکر کو دے دوں؟ اس نے کہا یا رسول اللہ صل اللہ علیہ آلہ سلم ! یہ آپ ﷺ کا حکم ہے یا آپ ﷺ مجھے اختیار دیتے ہیں کہ میں جو چاہوں کہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا حکم تو نہیں۔وہ کہنے لگا تو پھر ادھر لائے تبرک کے معاملہ میں میں کسی کو اپنے آپ پر ترجیح نہیں دے سکتا۔تو اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں سارے بندے رقیب ہیں اور ہر بندے کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ دوسرے سے اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہو۔پس میں وہ الفاظ کہہ کر صرف اپنا احساس بیان نہیں کر رہا تھا بلکہ میں چاہتا تھا کہ تم میں سے ہر شخص کے دل میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ خدا تعالیٰ کے سلسلہ کی اشاعت کا وہی ذمہ دار ہے اور اگر ایسا احساس تم میں پیدا ہو جائے تو پھر نہ وعظ کی ضرورت ہے نہ لمبے خطبوں کی۔پھر اتنی ہی ضرورت ہوگی کہ میں کھڑا ہو کر سورۃ فاتحہ کی تلاوت کر کے مختصر سے مختصر خطبہ بیان کر دوں کیونکہ مجھے علم ہوگا کہ ہر شخص اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا نمائندہ سمجھتا ہے اور اسے کسی وعظ کی ضرورت نہیں۔پس جس دن تم یہ سمجھنے لگ جاؤ گے کہ تم دنیا میں خدا تعالیٰ کے نمائندہ ہو اور تمہارے سپر دہی یہ کام ہے کہ تم ساری دنیا میں احمدیت پھیلاؤ اُس دن کسی نصیحت، کسی لیکچر اور کسی وعظ کی ضرورت نہ رہے گی تم خود خدا تعالیٰ کی وہ چلتی پھرتی تلواریں ہو گے جو آپ ہی آپ ضلالت اور کفر و شرک کی گردنیں کاٹتی پھریں گی۔یا درکھو! وعظ ونصیحت سے اس وقت تک کچھ نہیں بنتا جب تک دلوں میں تغیر پیدا نہ کیا جائے اور جب تک یہ سمجھا نہ جائے کہ ہم پر اشاعت دین کی ذمہ داری ہے جب تک یہ تغیر پیدا نہیں ہوتا وعظ و نصیحت کی ضرورت رہتی ہے اور جب لوگ یہ سمجھنے لگ جائیں کہ ہم خدا تعالیٰ کے نمائندہ ہیں اور ہمارا اپنا کام ہے کہ بغیر کسی تحریک کے خود بخود کام کرتے چلے جائیں وہ دن ترقی کا ہوتا ہے اور اس دن سے جماعت کو بیدار کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔میں نے تحریک جدید کے مالی حصہ کے لئے چندہ کی اپیل کی تھی اس کے متعلق میں نے دیکھا ہے جو لوگ بیدار اور ہوشیار تھے انہوں نے اس بات کی ضرورت نہیں سمجھی کہ کب ان کی جماعت کی طرف سے مجموعی طور پر چندہ کی فہرست جاتی ہے بلکہ انہوں نے تحریک سنتے ہی اپنے وعدے 249