تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 241
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 20 دسمبر 1935ء کو بھی فائدہ پہنچے گا۔غرضیکہ وہ اپنی اخلاقی حالت کو بھی درست کرے گا اور اقتصادی حالت کو بھی۔پس میں ایک دفعہ پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔جو لوگ اپنے بے کار بچہ کے متعلق یہ کہتے ہیں یہ ہمارا بچہ ہے، ہمارے گھر سے روٹی کھاتا ہے، کسی اور کو اس میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے؟ وہ ویسی ہی بات کہتے ہیں جیسے کوئی کہے کہ میرا بچہ طاعون سے بیمار ہے کسی اور کوگھبرانے کی کیا ضرورت ہے؟ یا میرا بچہ ہیضہ سے بیمار ہے کسی اور کو گھبرانے کی کیا ضرورت ہے؟ جس طرح طاعون کے مریض کے متعلق کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے متعلق کسی اور کو کچھ کہنے کی کیا ضرورت ہے؟ بلکہ سارے شہر کو حق حاصل ہے کہ اس پر گھبراہٹ کا اظہار کرے اور اس بیماری کو رو کے جس طرح ہیضہ کے مریض کے متعلق کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس معاملہ میں کسی اور کو کہنے کی کیا ضرورت ہے؟ بلکہ سارا شہر اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اس سے متعلق گھبراہٹ ظاہر کرے اور اس بیماری کو رو کے اسی طرح جو شخص بے کار ہے اس کے متعلق تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اسے ہم خود روٹی کھلاتے اور کپڑے پہناتے ہیں کسی اور کو اس میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے؟ بلکہ ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ اس بے کاری کے مرض کو دور کرنے کی کوشش کرے کیونکہ وہ طاعون اور ہیضہ کے کیڑوں کی طرح دوسرے بچوں کا خون چوستا اور انہیں بد عادات میں مبتلا کرتا ہے۔تم ہیضہ کے مریض کو اپنے گھر میں رکھ سکتے ہو تم طاعون کے مریض کو اپنے گھر میں رکھ سکتے ہو مگر تم ہیضہ اور طاعون کے کیٹروں کو اپنے گھر میں نہیں رکھ سکتے کیونکہ وہ پھلیں گے اور دوسروں کو مرض میں مبتلا کریں گے اسی طرح تم یہ کہہ کر کہ ہم اپنے بچہ کو کھلاتے اور پلاتے ہیں اس ذمہ واری سے عہدہ برآنہیں ہو سکتے جو تم پر عائد ہوتی ہے بلکہ تمہارا فرض ہے کہ جس قدر جلد ہو سکے اس بیماری کو دور کرو ورنہ قوم اور ملک اس کے خلاف احتجاج کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔پس یہ معمولی بات نہیں کہ اسے نظر انداز کیا جا سکے۔اگر ایک کروڑ پتی کا بچہ بھی بے کار ہے تو وہ اپنے گھر کو ہی نہیں بلکہ ملک کو بھی تباہ کرتا ہے۔یا درکھو! تمام آوارگیاں بے کاری سے پیدا ہوتی ہیں اور آوارگی سے بڑھ کر دنیا میں اور کوئی جرم نہیں۔میرے نزدیک چور ایک آوارہ سے بہتر ہے بشرطیکہ ان دونوں جرائم کو الگ الگ کیا جا سکے اور اگر چوری اور آوارگی کو الگ الگ کر کے میرے سامنے رکھا جائے تو یقینا میں یہی کہوں گا کہ چور ہونا اچھا ہے مگر آوارہ ہونا بر اقتل نہایت ناجائز اور نا پسندیدہ فعل ہے لیکن اگر میری طرح کسی نے اخلاق کا مطالعہ کیا ہو اور ان دونوں جرائم کو الگ الگ رکھ کر اس سے دریافت کیا جائے کہ ان میں سے کون سا فعل زیادہ برا ہے؟ تو وہ یقینا یہی کہے گا کر قتل کرنا اچھا ہے مگر آوارہ ہونا برا کیونکہ ممکن ہے قاتل پر ساری عمر میں صرف ایک گھنٹہ 241