تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 242
خطبہ جمعہ فرموده 20 دسمبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول ایسا آیا ہوجبکہ اس نے جوش میں آکر کسی شخص کو قتل کر دیا ہو لیکن آوارہ آدمی ساری عمر ذہنی طور پر قاتل بنا رہتا ہے اور اپنی عمر کے ہر گھنٹہ میں اپنی روح کو ہلاک کرتا ہے تم ایک قاتل کو نیک دیکھ سکتے ہو لیکن تم کسی آوارہ کو نیک نہیں دیکھ سکتے کیونکہ ہو سکتا ہے ایک شخص نیک ہو لیکن اس کی عمر میں ایک گھنٹہ ایسا آجائے جبکہ وہ جوش میں آکر کسی کو قتل کر دے اور قتل کے بعد اپنے کئے پر پشیمان ہو اور دوسرے گھنٹہ میں ہی وہ اپنے رب کے سامنے جھک جائے اور کہے اے میرے رب ! مجھ سے غلطی ہوئی مجھے معاف فرما۔پس ہو سکتا ہے وہ معاف کر دیا جائے لیکن آوارہ شخص خدا تعالیٰ کی طرف نہیں جھکتا کیونکہ وہ مردہ ہوتا ہے اس میں کوئی روحانی حس باقی نہیں ہوتی۔میرے نزدیک دنیا کا ہر خطر ناک سے خطرناک جرم آوارگی سے کم ہے اور آوارگی مجموعہ جرائم ہے کیونکہ جرم ایک جزو ہے اور آوارگی تمام جرائم کا مجموعہ۔ایک بادشاہ کے ہاتھ کی قیمت بادشاہ کی قیمت سے کم ہے، ایک جرنیل کے ہاتھ کی قیمت جرنیل سے کم ہے اسی طرح ہر جرم کی پاداش آوارگی سے کم ہے کیونکہ جرم ایک جزو ہے اور آوارگی اس کا کل ہے تم دنیا سے آوارگی مٹاڈالو تمام جرائم خود بخود مٹ جائیں گے۔تمام جرائم کی ابتدا بچپن کی عمر سے ہوتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بچہ آوارگی میں مبتلا ہوتا ہے تم بچے کو کھلا چھوڑ دیتے ہو اور کہتے ہو یہ بچہ ہے اس پر کیا پابندیاں عائد کریں؟ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خطرناک جرائم کا عادی بن جاتا ہے۔اگر دنیا اپنے تمدن کو ایسا تبدیل کر دے کہ بچے فارغ نہ رہ سکیں تو یقیناً دنیا میں جرائم کی تعداد معقول حد تک کم ہو جائے۔لوگ اصلاح اخلاق کے لئے کئی کئی تجویزیں سوچتے اور قسم قسم کی تدبیریں اختیار کرتے ہیں مگر وہ سب ناکام رہتی ہیں اس کے مقابلہ میں اگر بچوں کو کام پر لگا دیا جائے اور بچپن کی عمر فارغ عمر نہ قرار دیا جائے تو نہ چوری باقی رہے، نہ جھوٹ ، نہ دعا، نہ فریب اور نہ کوئی اور فعل بد۔بالعموم لوگ بچپن کی عمر کو بے کاری کا جائز زمانہ سمجھتے ہیں حالانکہ وہ بے کاری بھی ویسی ہی نا جائز ہے جیسے بڑی عمر میں کسی کا بے کار رہنا۔چنانچہ ہماری شریعت نے اس کو خصوصیت سے مد نظر رکھا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق امت محمدیہ کو ہدایت دی ہے، پاگل اور دیوانے کہتے ہیں کہ یہ بے معنی حکم ہے حالانکہ یہ بہترین تعلیم ہے جو بچوں کے اخلاق کی اصلاح کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی آپ ﷺ فرماتے ہیں: جب بچہ پیدا ہو تو اس کے دائیں کان میں اذان کہو اور بائیں میں اقامہ ! وہ بچہ جو ابھی بات کو سمجھتا ہی نہیں ، وہ بچہ جو آج ہی پیدا ہوا ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق فرماتے ہیں کہ تم آج ہی اس سے کام لو اور پیدا ہوتے ہی اس کے کان میں اذان دو۔کیا تم سمجھتے ہو کہ بچہ کے پیدا ہوتے ہی تو تمہیں اس کے کان میں اذان دینی چاہئے لیکن دوسرے اور تیسرے دن نہیں؟ 242