تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 240
خطبہ جمعہ فرموده 20 دسمبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول کیوں دیں؟ پس وہ ایک بے کارساری دنیا کے مزدوروں کی اجرت کو نقصان پہنچا تا اور سب کو دو آنے لینے پر مجبور کر دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جن قوموں میں بے کاری زیادہ ہو ان میں مزدوری نہایت سستی ہوتی ہے کیونکہ بے کار مجبوری کی وجہ سے کام کرتا اور باقی مزدوروں کی اجرتوں کو نقصان پہنچا دیتا ہے لیکن جن قوموں میں بے کاری کم ہو ان میں مزدوری مہنگی ہوتی ہے۔تو بے کا را قتصادی ترقی کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں بے کار شخص ہمیشہ مانگنے کے عادی ہوگا، دوسروں پر بوجھ بنے گا اور اگر کبھی مزدوری کرے گا تو مزدوروں کی ترقی کو نقصان پہنچائے گا۔پس اقتصادی لحاظ سے بھی بے کاروں کا وجود سخت خطر ناک ہے۔پھر نہ صرف اقتصادی لحاظ سے بے کاروں کا وجود خطرناک ہے بلکہ قومی لحاظ سے بھی ان کا وجود خطر ناک ہے۔اگر کسی قوم میں دس ہزار میں سے ایک ہزار بے کار ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قوم کے پاس سو میں سے صرف نوے شخص موجود ہیں اور ان پر بھی دس فیصدی کا بوجھ ہے۔ایسی قوم دنیا کی اور قوموں کے مقابلہ میں جن کا ہر فرد خود کمانے کا عادی ہو کس طرح کامیاب ہو سکتی ہے؟ نیلامی میں اس قسم کا نظارہ دیکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔ایک شخص کے پاس ایک سو روپیہ ہوتا ہے اور دوسرے کے پاس ایک سو ایک لیکن یہ سو روپیہ پاس رکھنے والا شخص وہ چیز نہیں لے سکتا جو صرف ایک روپیہ زائد پاس رکھنے والا اس کا مخالف لے جاتا ہے۔اگر صرف ایک روپیہ زائد پاس رکھنے سے نیلامیوں میں مخالف کامیاب ہو جاتا ہے تو جہاں سو کے مقابلہ میں کسی کے پاس نوے روپے ہوں وہ کس طرح کامیاب ہو سکتا ہے؟ ایسے شخص کا تو شکست کھا جانا یقینی ہے۔ہندؤوں کو دیکھ لو، ان میں چونکہ بے کار کم ہیں اس لئے وہ ہر مرحلہ پر مسلمانوں کو شکست دے دیتے ہیں ان کی قوم دولت کمانے کی عادی ہے اور گوہ دنیا کی خاطر دولت کماتی ہے جسے ہم اچھا نہیں سمجھتے مگر اقتصادی اور قومی طور پر اس کا نتیجہ ان کے لئے نہایت ہی خوش کن نکلتا ہے۔پس میں نے تحریک کی تھی کہ ہماری جماعت میں جو لوگ بے کار ہیں وہ معمولی سے معمولی مزدوری کر لیں مگر بے کار نہ رہیں لیکن جہاں تک مجھے معلوم ہے میری اس نصیحت پر عمل نہیں کیا گیا اور اگر کیا گیا تو بہت کم حالانکہ اگر کوئی شخص بی۔اے ہے یا ایم۔اے اور اسے ملازمت نہیں ملی اور وہ کوئی ایسا کام شروع کر دیتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ دو یا پانچ روپے ماہوار کماتا ہے تو اس کا اسے بھی فائدہ ہوگا اور جب وہ کام میں مشغول رہے گا تو دوسروں کو بھی فائدہ ہوگا اور اس سے عام لوگوں کو وہ نقصان نہیں پہنچے گا جو بے کار شخص سے پہنچتا ہے بلکہ محنت سے کام کرنے کی وجہ سے اس کے اخلاق درست ہوں گے۔محنت سے کام کرنے کی وجہ سے اس کے ماں باپ کا روپیہ جو اس پر صرف کرتے تھے ضائع نہیں ہو گا اور محنت سے کام کرنے کی وجہ سے اس سے قوم 240