تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 11

دید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 9 نومبر 1934ء خدمت دین کے لئے نام پیش کرو خطبہ جمعہ فرمودہ 9 نومبر 1934ء میں نے اللہ تعالیٰ سے متواتر دعا کرتے ہوئے اور اس کی طرف سے مبشر رویا حاصل کرتے ہوئے ایک سکیم تیار کی ہے جس کو میں انشاء اللہ آئندہ جمعہ بیان کرنا شروع کروں گا۔“ "" بہر حال ترقیات اور کامیابیوں کی بشارتیں ہمیں ملی ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ وہ حاصل ہو کر رہیں گی لیکن ان کے حصول کے لئے حسب سنت اللہ ہمیں قربانیوں کی ضرورت ہے اور حسب احکام شریعت کچھ تدابیر اختیار کرنے کی بھی لیکن میں نے پورے غور کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ قربانیاں بالعموم جبری اور لازمی نہ ہوں بلکہ اختیاری ہوں تا کہ ہر شخص اپنے حالات اور اخلاص کے مطابق کام کر سکے۔میرا ارادہ ہے کہ اس سکیم کو پیش کرتے ہوئے میں اپنی جماعت سے والنٹیئر زطلب کروں گا اور ان لوگوں کو بلاؤں گا جو خوشی سے اس تحریک میں شامل ہوں۔اس میں شبہ نہیں کہ اس کے نتیجہ میں ممکن ہے بعض لوگ جو کام کے قابل ہوں شامل نہ ہوں مگر جو شخص اپنے اندر کام کی طاقت رکھتے ہوئے شامل نہیں ہوگا وہ خدا تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہوگا اور اُس کا یہ عذر ہر گز شنا نہیں جائے گا کہ اس تحریک میں شامل ہونا اپنی مرضی پر موقوف رکھا گیا تھا کیونکہ اس میں شامل ہونا اختیاری ہوگا مگر جو شخص شامل ہونے کی اہلیت رکھنے کے باوجود اس خیال کے ماتحت شامل نہیں ہوگا کہ خلیفہ نے شمولیت کو اختیاری قرار دیا ہے وہ مرنے سے پہلے اس دُنیا میں یا مرنے کے بعد اگلے جہاں میں پکڑا جائے گا۔ہاں جو شخص نیک نیتی سے یہ سمجھے کہ اُس کے حالات مساعدت نہیں کرتے وہ اس سے مستنی سمجھا جائے گا۔“ " ہم تو گورنمنٹ کے اس معاملہ میں کسی خاص میعاد کا تعین نہیں کرتے اور نہ ہی احراریوں سے مقابلہ کی کوئی میعاد مقرر کر سکتے ہیں۔اگر ایک سال نہیں، دو سال نہیں ، دس سال نہیں، سوسال نہیں ، ہزار سال بھی ہمارا اس مقابلہ میں لگ جائے تو ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں۔اگر فرض کرو ہم اس میں کامیاب نہیں ہو سکتے تو ہماری آئندہ نسل کا فرض ہے کہ وہ اس سوال کو اُٹھائے اور اگر وہ بھی کامیاب نہیں ہو سکتی تو اُس سے آئندہ آنے والی نسل کا فرض ہے کہ اس سبق کو بھولے نہیں بلکہ یا در کھے اور 11