تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 10

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 2 نومبر 1934ء مفر تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول ہیں اور اُس کے فرشتے اُن کی حفاظت کرتے ہیں اور اُس کی رحمانی صفات سے وہ مؤید ہوتے ہیں اور گودہ دنیا سے اُٹھ جائیں اور اپنے پیدا کرنے والے کے پاس چلے جائیں مگر اُن کے جاری کئے ہوئے کام نہیں ر کتے اور اللہ تعالیٰ انہیں سح اور منصور بناتا ہے۔یہ مت گمان کرو کہ میرے اِس دیر کرنے میں مبادا وہ سکیم تمہارے سامنے نہ آئے کیونکہ کیا پتہ ہے کہ میں اگلے جمعہ تک زندہ بھی رہتا ہوں یا نہیں۔پس میں آج یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ وہ سکیم جو میں پیش کرنا چاہتا ہوں وہ کبھی غائب نہیں ہو سکتی بغیر اس کے کہ تمہیں اُس کا علم ہو۔وہ تمہارے پاس پہنچ چکی ہے اور بغیر اس کے کہ وہ تمہیں معلوم ہو بکلی محفوظ ہو چکی ہے اور کسی انسان کی موت اس کو کسی صورت میں بھی مٹا نہیں سکتی۔بہر حال جماعت احمد یہ جلد یا بدیر اس معاملہ میں غالب آکر رہے گی اور اپنی صداقت دُنیا سے منوا کر رہے گی۔“ وو " اگر آج ان اُمور کا انسداد نہ کیا گیا تو سلسلہ کی تحقیر اور تذلیل بڑھتی چلی جائے گی۔پس میرا فرض ہے کہ میں آج آپ لوگوں کو کھول کر بتادوں کہ اب آپ کے امتحان کا وقت آ پہنچا ہے۔اب آپ کی قربانیوں کا جائزہ لینے کا وقت آگیا ہے۔“ ا میں اپنے خطبہ کو ختم کرتے ہوئے جماعت سے کہتا ہوں کہ اب ہمارا ایک جھگڑا تو احرار سے ہے انہوں نے ہمیں چیلنج دیا ہے اور گو ہم ظاہری طور پر کمزور ہیں مگر ہمیں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ کسی چیلنج کو ہم قبول کرنے سے انکار نہ کریں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ثابت کر دیں کہ ہمارے رب کے سپاہی بز دل نہیں ہوتے اور میں اُمید کرتا ہوں کہ جب میں اس سکیم کو بیان کروں گا جو ان فتن کے دُور کرنے کے متعلق ہوگی تو اُس وقت ہماری جماعت کا ہر فرد اپنے ذرائع کے مطابق لبیک کہتا ہوا آگے بڑھے گا۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ یہ فتنہ کوئی اہم چیز نہیں اس سے بڑے بڑے فتنے ہماری جماعت کے لئے مقدر ہیں مگر وہ جو چھوٹے فتنہ کے لئے قربانی کرنے پر تیار نہ ہو اس سے امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ کسی بڑے فتنہ کے وقت قربانی کر سکے گا۔خدا بے شک عالم الغیب ہے اور وہ ہماری نیتوں سے آگاہ ہے مگر دنیا پر رعب اسی صورت میں پڑسکتا ہے جب ہم اپنی قربانیوں سے اپنا زندہ ہونا ثابت کر دیں۔پس اس فتنہ کے استیصال کے لئے جو تجاویز بتائی جائیں گی میں اُمید کرتا ہوں کہ جماعت ان پر عمل کرے گی۔“ ( مطبوع الفضل 11 نومبر 1934 ء ) 10