تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 187
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 15 نومبر 1935ء دے کر سوا سیر لے آئے تو زیادہ خریدنے کی وجہ سے یہ نہیں کہیں گے کہ تم زیادہ مالدار ہو گئے جو چیز تم گھر میں لائے وہ گو زیادہ تھی مگر جور تم تم نے اس سال دی وہ نسبتا بہت ہی زیادہ تھی۔پس دیکھنا یہ ہے کہ تم نے خرچ کیا کیا اور نتیجہ کیا نکلا؟ مجھے یقینی طور پر تو علم نہیں مگر مجھ پر یہ اثر ہے کہ بیعت اس سال زیادہ ہے مگر اس کے مقابلہ میں اس سال ہم نے تبلیغ پر جو زور دیا ہے وہ بھی پہلے سالوں سے بہت زیادہ ہے۔پہلے سالوں میں اگر میں چالیس مبلغ کام کرتے تھے اور اس سال چھ سات سو مبلغین نے کام کیا ہے اس لئے اگر بیعت سوائی یا ڈیوڑھی بھی ہوگئی ہو تو یہ کوئی خوشی کا موقع نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مشکلات بڑھ گئی ہیں اور قربانی کی زیادہ ضرورت ہے۔دشمن کا حملہ بھی زیادہ ہے گو احرار کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے شکست ہوئی ہے مگر ہمارے مخالف صرف احرار ہی نہیں جو لوگ ان کے مخالف ہیں وہ بھی ہماری مخالفت میں ان سے کم نہیں بلکہ آج کل تو مخلص مسلمان کی علامت ہی یہ ہوگئی ہے کہ ہم کو زیادہ گالیاں دے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ احرار کو ذلیل کرنے کے لئے جو پچاسوں واعظ پھر رہے ہیں وہ بھی ان کی مخالفت کرنے سے پہلے ہم کو گالیاں دے لیتے ہیں تا ان پر احمدی یا احمدی نواز ہونے کا الزام نہ آ سکے اور اس طرح ہماری مخالفت جو پہلے محدود اب زیادہ پھیل گئی ہے حتی کہ اب کے ڈسٹرکٹ بورڈوں کے جو انتخاب ہوئے ہیں ان میں بھی احمدیت یا احمدیوں کی حمایت کا سوال اٹھایا جاتا رہا ہے اور لوگوں نے اپنے مخالف کو شکست دینے کا ذریعہ ہی یہ سمجھا ہوا تھا کہ اسے احمدی یا احمدی نواز قرار دیا جائے۔چنانچہ اس غرض کے لئے بیسیوں لوگوں نے مولویوں کو اور پیروں کو تمیں دے دے کر احمدیت کی مخالفت کروائی اس جدو جہد سے ہمارا نام تو بے شک پھیلا مگر ہمارے خلاف بغض بھی بڑھ گیا اور اس صورت حالات کا مقابلہ کرنا ہمارا فرض ہے ورنہ ایک دوسال میں ہمارے خلاف ایسی دیوار بن جائے گی جسے توڑنا بہت مشکل ہو گا۔تم جس دل کو دلائل سے فتح کرنے کے لئے جاؤ گے اسے لوہے کی ایسی چار دیواری میں بند پاؤ گے کہ تمہارے دلائل اس سے ٹکر انکرا کر اسی طرح ضائع ہو جائیں گے جس طرح کوئی شخص مضبوط چٹان کے ساتھ اپنا سر ٹکر اٹکرا کر پھوڑ لیتا ہے۔پس تم بھی اپنے ماحول کو وسیع کرو۔ہشیار جرنیل لڑائی میں اپنی صفوں کو لمبا کرتے ہیں تا دشمن کے پہلوؤں پر سے گزر کر عقب میں سے اس پر حملہ کر سکیں۔ان کے دشمن بھی اگر ہوشیار ہوتے ہیں تو وہ بھی اپنے بازوؤں کو پھیلاتے جاتے ہیں تا کہ حملہ آور اپنے اس ارادہ میں کامیاب نہ ہو سکے۔پس جب ہمارا دشمن اپنی صفوں کو پھیلا رہا ہے تا کہ ہمارے لئے واپسی کا راستہ بھی باقی نہ چھوڑے تو ہمارا بھی فرض ہے کہ اپنی صفوں کو وسیع کریں۔اس لئے اس سال پچھلے سال سے قربانی کی ضرورت زیادہ ہے اور میں دوبارہ 187