تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 186

خطبه جمعه فرمود : 15 نومبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول اسی طرح ایک شخص کہتا ہے میں اپنی جان دین کے لئے پیش کرتا ہوں اور حقیقت وہ اپنی جان کسی اور کے پاس بیچ چکا ہوا ہے تو میں اس کے اس دعوی کو کیا کر سکتا ہوں؟ پس میں نے بتایا تھا کہ اگر واقعہ میں تمہارے اندر آگ ہے، عشق ہے، زندگی ہے اور قربانی کی خواہش ہے تو اس کے لئے ماحول پیدا کرو پھر تم مومن بن سکو گے اور پھر خدا کے گھر میں تمہاری عزت ہوگی۔اگر ایسا نہیں تو تم خدا کو دینے نہیں آئے بلکہ اس سے لینے آئے ہو۔دوسرے بات یہ کہی تھی کہ گنجائش کے علاوہ قربانی کی عادت بھی چاہئے۔ہمارے ملک میں ملانوں کی قوم لالچی مشہور ہے۔کہتے ہیں کوئی ملا کسی خشک کنوئیں میں گر گیا جو بہت گہرا نہیں تھا لوگ اسے نکالنے کے لئے جمع تھے اور کہتے تھے کہ ملا جی ہاتھ دو مگر وہ چپ چاپ کھڑا تھا۔کوئی مسافر گزررہا تھا اس نے کہا کہ آپ لوگ ملانوں کا مزاج نہیں سمجھتے۔دیکھو میں ملا کو نکالے دیتا ہوں ! یہ کہ کر وہ آگے بڑھا اور اپنا ہاتھ لٹکا کر کہا کہ ملا جی ذرا ہا تھ تو لینا! اس کا یہ کہنا تھا کہ ملا نے اُچک کر اُس کا ہاتھ پکڑ لیا۔یوں تو یہ لطیفہ ہے مگر اس میں صداقت ضرور ہے یعنی جسے کسی کام کی عادت نہ ہو وہ اسے کر نہیں سکتا۔عیسائیوں نے اس سے بہتر انتظام کر رکھا ہے۔وہ صدقہ خیرات پادریوں کے سپرد کر دیتے ہیں اس لئے ان میں قربانی اور ایثار کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔پس اول تو قربانی کے لئے سامان جمع کرو اور پھر اس کی عادت ڈالواگر سامان نہیں ہیں تو کہاں سے دو گے؟ جب مال بچاتے نہیں، جان کسی کے سپرد ہے، وقت سب تقسیم شدہ ہے تو خدا کو کیا دو گے؟ بے شک ایک وقت ایسا آتا ہے کہ جب سب کام کاج چھوڑ دینے کا حکم ہوتا ہے۔ایسے موقع پر مخلص تو ضرور گھر بار سب کچھ چھوڑ کر آجائیں گے مگر اس سے پہلے پہلے جو قربانیاں ہیں جو لوگ انہیں بھی نہیں کر سکتے وہ یہ انتہائی قربانی کس طرح کر سکتے ہیں؟ ابھی تو صرف یہ کہا جاتا ہے کہ اپنی آمد کا ایک حصہ پیش کردو لیکن جو شخص یہ بھی نہیں کرتا وہ موقع آنے پر نوکری سے استعفیٰ دے کر کس طرح آجائے گا ؟ پس گزشتہ سال جو میں نے کہا تھا کہ قربانی کے لئے ماحول کی ضرورت ہے وہ آج بھی ویسی ہی ہے۔ہمارے خلاف لوگوں میں اس قدر اشتعال بھر دیا گیا ہے کہ تبلیغ کا کام بہت مشکل ہو گیا ہے۔بے شک اس سال بیعت گزشتہ سالوں کی نسبت زیادہ ہے مگر اس سال تبلیغ بھی تو گزشتہ سالوں سے بہت زیادہ ہوئی ہے اور جب محنت زیادہ اور نتیجہ کم ہو تو اس کا یہی مطلب ہے کہ ہم نے کچھ کھویا ہے پایا نہیں۔پچھلے سال اگر کوئی چیز پانچ روپیہ سیر تھی اور تم پانچ روپے دے کر ایک سیر لے آئے اور اس سال وہ آٹھ روپیہ سیر ہواور تم دس روپیہ 186