تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 188
خطبه جمعه فرمود : 15 نومبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول اعلان کرتا ہوں کہ اس سال بھی سادگی اور کفایت کا اصول مد نظر رکھا جائے۔میں نے ممانعت کی تھی کہ کوئی احمدی سنیما، تھیٹر اور سرکس وغیرہ نہ دیکھے سوائے اس کے کہ کسی کو اپنی ڈیوٹی کے طور پر یا سرکاری حیثیت سے وہاں جانا پڑے۔مثلاً بعض لوگ درباروں وغیرہ میں شامل ہوتے ہیں اور پروگرام کی تقاریب دیکھنی پڑتی ہیں یا سنیما میں کوئی احمدی ملازم ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس کی روزی اس میں رکھی ہو تو اسے مشین وغیرہ دیکھنے کے لئے جانا ہوگا مگر وہ بھی تماشہ دیکھنے کے لئے نہ جائے۔یہ امر اختیاری نہیں رکھا گیا تھا بلکہ لازمی تھا اور میں نے کہا تھا کہ تین سال تک ہر احمدی اس سے احتراز کرے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ تین سال کے بعد میں اجازت دے دوں گا بلکہ میں نے کہا تھا کہ اس کے بعد علماء سے مشورہ کر کے فتویٰ شائع کیا جائے گا اس وقت نظامی لحاظ سے میں تین سال کے لئے ممانعت کرتا ہوں۔دوسری نصیحت یہ ہے کہ میں نے گزشتہ سال بتایا تھا کہ مال کے خرچ ہونے کی بڑی بڑی آٹھ جگہیں ہوتی ہیں: ایک کھیل تماشہ، دوسرے غذا، تیسرے لباس، چوتھے زیور، پانچویں علاج وغیرہ چھٹے آرائش ، ساتویں تعلیمی اخراجات اور آٹھویں شادی بیاہ وغیرہ۔یہ آٹھ مواقع ہیں جن پر بیشتر حصہ روپیہ کا خرچ ہوتا ہے۔جب تک ان آٹھوں میں حد بندی نہ کی جائے اس وقت تک خدا کے لئے قربانی کی آواز پر لبیک نہیں کہا جاسکتا۔پس سینیما اور تھیٹر ، سرکس وغیرہ کی میں پھر ممانعت کرتا ہوں۔اس کے بعد سادہ غذا ہے یہ میں نے اختیاری رکھا تھا مگر جماعت کے اکثر دوستوں نے اسے قبول کیا اس میں بھی میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ہر احمدی خواہ بڑا ہو یا چھوٹا امیر ہو یا غریب یہ اقرار کرے کہ صرف ایک سالن استعمال کرے گا سوائے اس کے جو یہ اقرار نہ کرنا چاہتا ہو مگر یہ چیز ایسی ہے کہ جو اسے اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں اس کے اندر ضرور نفاق کی رگ ہوگی۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ دین کے لئے قربانی کرنے کی غرض سے ماحول پیدا کرنے کیلئے جو شخص زبان کا چسکا بھی نہیں چھوڑ سکتا وہ دین کے لئے قربانی کرنے والا سمجھا جا سکے؟ ایسا انسان کس منہ سے دعوی کر سکتا ہے کہ وہ خدا کے لئے اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہے؟ جب وہ ایک سے زیادہ سالن قربان نہیں کر سکتا تو کس طرح امید کی جاسکتی ہے کہ جان قربان کر دے گا؟ ایسا شخص فریب خوردہ ہے۔اس مطالبہ کو میں پھر دوہراتا ہوں اور تمام جماعتیں اپنے ہر فرد سے اقرار لیں کہ وہ ایک ہی کھانا استعمال کرے گا جسے میٹھا کھانے کی عادت ہو وہ اور دوسرے لوگ بھی کبھی کبھی میٹھا استعمال کر سکتے ہیں مگر یہ یاد رکھیں کہ تکلف نہ ہو ایک کھانے میں بھی انسان تکلف کر سکتا ہے۔امرا پر اس قربانی کا زیادہ اثر ہوگا مگر ر با بھی اس قربانی میں شریک ہو سکتے ہیں کیونکہ اول تو وہ بھی کبھی کبھی دوکھانے 188