تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 184
خطبہ جمعہ فرمودہ 15 نومبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول کرتے ہیں، غربا کو کھانا کھلاتے ہیں، نگوں کو کپڑے دیتے ہیں تو میرے دل میں حسرت پیدا ہوتی ہے کہ کاش میں بھی کروں۔آپ دعا کریں اللہ تعالیٰ مجھے بہت سا مال دے۔اس کے لئے ابتلا مقدر ہوگا آپ نے دعا کی اور وہ اتنا مالدار ہو گیا کہ صحابہ کا بیان ہے اس کے زکوۃ کے مال سے ایک وادی بھر جاتی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ایک شخص اس کے پاس زکوۃ لینے کے لئے گیا تو اس نے کہا کہ بیوی بچوں کے اخراجات پورے کریں، مال مویشی کے چارہ اور ان کی دیکھ بھال کے لئے نوکروں پر خرچ کریں یاز کو دیں؟ محنت ہم کرتے ہیں اور زکوۃ دوسروں کو دیں ؟ اس شخص نے آکر رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو اس کا جواب سنا دیا۔آپ کا قاعدہ تھا کہ ایسے لوگوں کو سزا دیتے تھے جو ز کوۃ نہ دیں لیکن اس کے متعلق آپ نے ایسا نہیں کیا بلکہ اسے یہ سزادی کہ فرمایا آئندہ اس سے کبھی زکوۃ نہ لی جائے کیونکہ آپ اسے نشان کے طور پر قائم رکھنا چاہتے تھے کچھ عرصہ کے بعد اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ مویشیوں کا ایک بڑا گلہ زکوۃ کے طور پر لے کر آیا جو اس قدر تھا کہ صحابہ کا بیان ہے کہ جہاں تک نظر جاتی تھی مویشی ہی مویشی نظر آتے تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے زکوۃ نہیں لی جائے گی اور وہ روتا ہوا واپس چلا گیا۔اسی طرح وہ ہر سال آتا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی زکوۃ قبول نہ کرتے اور روتا ہوا چلا جاتا حتی کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور اس نے آکر کہا کہ اب تو میری توبہ قبول کر لی جائے مگر آپ نے فرمایا کہ لے جاؤ! جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں کیا اسے میں کیسے کر سکتا ہوں ؟ اس کا دستور تھا کہ ہر سال اسی طرح زکوۃ کا مال لاتا اور پھر روتا ہوا واپس چلا جاتا۔تو کئی لوگ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس مال ہوتا تو یوں کرتے ، یوں کرتے لیکن ان کی مثال ایسی ہی ہے کہ جیسے کوئی بڑھا آدمی جو چار پائی پر پڑا ایڑیاں رگڑ رہا ہو، کہے کہ اگر مجھ میں طاقت ہوتی تو یوں جہاد کرتا۔اگر ایک کنگال کہے کہ میرے پاس مال ہوتا تو میں یوں قربانی کرتا تو اس کا کیا ثبوت ہے کہ وہ ضرور ایسا کرتا ؟ اس کی سچائی اسی طرح معلوم ہو سکتی ہے کہ جو اس کے پاس ہے وہ پیش کرے یا جو قربانی اس کے لئے ممکن ہے اس کے لئے سامان مہیا کرے۔قادیان کے ایک شخص کا واقعہ مجھے یاد ہے۔اس سے جب کسی نے کہا کہ چندہ دیا کر تو اس نے کہا کہ قرآن کریم کا حکم : قُلِ الْعَفْوَ (البقره: 220) ہے یعنی جو بچے وہ دو اور ہم بچاتے ہی نہیں تو دیں کہاں سے؟ واقعی لطیفہ تو اسے خوب سوجھا! قرآن کریم 184