تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 183

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمود : 15 نومبر 1935ء ہیں۔اس نے خدا کے لئے جان قربان کر دی اور خدا نے نہ چاہا کہ اس کے اعمال ختم ہو جائیں۔کوئی دن نہیں گزرتا کہ تم نمازیں پڑھو اور ان کا ثواب تمہارے نام لکھا جائے اور شہید اس سے محروم رہے، کوئی رمضان نہیں گزرتا کہ تم اس کے روزے رکھو اور ان کا ثواب تمہارے نام لکھا جائے اور شہید اس سے محروم رہے، کوئی حج نہیں کہ تم تکلیف اٹھا کر اس کا ثواب حاصل کرو اور شہید اس کے ثواب سے محروم رہے۔قرآن کریم نے فرما دیا ہے کہ ان کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں اور وہی برکتیں حاصل کر رہے ہیں جو تم کرتے ہو۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شہید صحابی کے لڑکے کو دیکھا کہ افسردہ تھا آپ نے اسے پاس بلایا اور پوچھا تمہیں پتہ ہے تمہارے باپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کیا سلوک کیا ؟ اس نے کہا میں نہیں جانتا اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے یا اس نے اپنے رسول ﷺ کو بتایا ہوگا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ کو بلایا اور فرمایا کہ تم نے میری راہ میں قربانی کی اور جان دے دی۔اب مانگو کیا مانگتے ہو اور طلب کرو جو تمہاری خواہش ہے میں دوں گا۔تو اس نے جواب دیا کہ اے میرے خدا! میری ایک ہی خواہش ہے کہ تو مجھے زندہ کر دے اور میں پھر تیری راہ میں مارا جاؤں، پھر زندہ کر دے اور پھر میں تیری راہ میں مارا جاؤں اور یہی چیز تھی جسے مکہ کے کافروں نے صحابہ کے چہروں سے پڑھا اور کہا کہ مسلمانوں کے گھوڑوں اور اونٹوں پر آدمی نہیں بلکہ موتیں سوار ہیں۔پس تم ہر ایک فتنہ سے احتراز کرو لیکن اگر کوئی حملہ کرے تو یہ آواز کوئی نہ سنے کہ تم وہاں سے بھاگ گئے۔میرا ارادہ تھا کہ تحریک جدید کے بعض حصے ابتدائی تمہیدات کے بعد چند خطبوں میں بیان کروں گا مگر چونکہ اگلے جمعہ کو ممکن ہے کہ خطبہ موجودہ حالات کے لحاظ سے مجھے اور اغراض کے لئے استعمال کرنا پڑے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس تحریک کا آج ہی اعلان کر دوں۔میں نے گزشتہ سال بتایا تھا کہ یہ سیکیم تین سال کے لئے ہے مگر ہر سال میں اسے دہرایا کروں گا تا دوستوں کو اپنے عہد کو تازہ کرنے کا موقع ملتا رہے اور تا اگر کسی بات میں تبدیلی یا ترمیم کرنی ہو تو کی جاسکے۔میں نے بتایا تھا کہ قربانی اچھی چیز ہے اور ہر مومن کی خواہش ہوتی ہے کہ قربانی کرے مگر جس قربانی کے لئے وہ سامان پیدا نہیں کرتا اس کی خواہش کرنا ایمان کی علامت نہیں بلکہ نفاق کی علامت ہے۔جس شخص کے پاس ایک پیسہ بھی نہیں وہ اگر کہے کہ میرے پاس دس کروڑ روپیہ ہو تو میں خدا کی راہ میں دے دوں تو اس کی اس خواہش کی کیا قیمت ہے؟ ایسے کئی لوگوں کو جب مال مل جاتا ہے تو پھر وہ قربانی نہیں کرتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ زکوۃ دیتے ہیں، صدقہ خیرات 183