تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 185
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 15 نومبر 1935ء میں یہ الفاظ موجود ہیں کہ عضو میں سے خرچ کرو اور عفو کے معنے زائد مال کے بھی ہیں لیکن اس کے معنے بہترین مال کے بھی ہیں۔اگر بچنے کی شرط کو پیش کر کے سب لوگ کھائیں ، اڑائیں اور کہہ دیں کہ بچتا کچھ نہیں تو یہ اس امر کی علامت ہوگی کہ ان کے اندر ایمان نہیں۔خالی دعووں کو کیا کرنا ہے جب حقیقت کچھ نہ ہو؟ پس اگر واقعی تمہارے اندر سچی خواہش ہے تو ایسا ماحول پیدا کرو جس میں قربانی ممکن ہو ورنہ خالی وعولی بے فائدہ شے ہے۔دعویٰ کرنا تو مشکل نہیں بلکہ منافق زیادہ دعوے کیا کرتے ہیں۔میں نے ایک دفعہ جلسہ سالانہ میں تقریر کی اور اس میں کہا کہ ہماری جماعت میں مال تو ہے مگر دیانت دار تاجر نہیں ملتے۔شروع شروع میں میرے پاس بہت سے ایسے لوگ آتے تھے کہ ہمارے پاس روپیہ ہے وہ کسی کام میں لگوادیں۔اب بھی آتے ہیں مگر اب چونکہ لوگوں کو پتہ لگ گیا ہے کہ میں ایسے روپیہ کو رد کر دیتا ہوں اور اس کی ذمہ داری نہیں لیتا اس لئے کم آتے ہیں تو میں نے بیان کیا کہ میرے پاس لوگ رو پید لاتے ہیں۔اگر دیانت دار تا جرمل سکیں تو ان کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے اور روپیہ والوں کو بھی۔اس تقریر کے بعد پانچ سات رفعے میرے پاس آئے کہ آپ کا سوال تو یہی تھا نہ کہ دیانتدار آدمی نہیں ملتے سو وہ وقت دور ہوگئی اور ہم اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔آپ ہمیں روپیہ دلوادیں ہم دیانت داری سے کام کرنے والے ہیں۔یہ لوگ سب کے سب ایسے تھے جن کے پاس پھوٹی کوڑی کا امانت رکھنا بھی میں جائز نہ سمجھتا تھا اور بعد میں بعض ان میں سے خیانت میں پکڑے بھی گئے۔تو صرف منہ کا دعوئی کچھ نہیں بلکہ عمل سے اس کی تائید ہونی چاہئے جو اسی طرح ہو سکتی ہے کہ جو قربانی کی خواہش رکھتا ہے وہ اس کے مطابق ماحول بھی پیدا کرے۔ایک شخص آتا اور کہتا ہے کہ میں خدا کے لئے اپنا سارا وقت قربان کرتا ہوں مگر ساتھ ہی یہ کہ دیتا ہے کہ میں چھ گھنٹے ڈیوٹی دیتا ہوں، آٹھ گھنٹے سوتا ہوں، دو گھنٹے نمازوں میں صرف کرتا ہوں، دو گھنٹے پاخانہ پیشاب میں گزر جاتے ہیں، دو گھنٹے سیر اور دو گھنٹے احباب سے بات چیت میں گزارتا ہوں اور باقی دو گھنٹے گھر میں زائد کام کرتا ہوں تو اس طرح چوبیس گھنٹہ کا حساب دے دینے کے بعد میں اس کے لئے چھپیں گھنٹے کس طرح بنا سکتا ہوں؟ اور اس سے کیا کام لے سکتا ہوں؟ اس کے اس دعوئی کا یہ مطلب ہے کہ یا تو وہ خود بے وقوف ہے اور یا مجھے بے وقوف سمجھتا ہے۔اسے چاہئے کہ پہلے دو چار گھنٹے بچائے اور پھر یہ نہ کہے کہ میں سارا وقت پیش کرتا ہوں بلکہ کہے کہ تین گھنٹے میں پیش کر سکتا ہوں۔دیانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ جب تم دعوی کرتے ہو تو اس کے پورا کرنے کے سامان بھی مہیا کرو ورنہ تم تمسخر کرتے ہو خدا سے اور تمسخر کرتے ہو اس کے رسول سے اور تمسخر کرتے ہو اس کے خلیفہ سے۔185