تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 166
خطبه جمعه فرموده یکم نومبر 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول گھر تو تھا اور انہیں گالیاں تو نہیں دی جاتی تھیں مگر آج اسلام کا تو کوئی گھر نہیں اور ہمارے آقا وسردار محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو تو علی الاعلان گالیاں دی جاتی ہیں مگر مسلمانوں میں طاقت نہیں کہ اس کا ازالہ کر سکیں۔اس حالت کا علاج ایک ہی صورت میں ممکن تھا کہ خدا تعالیٰ پھر ایک آواز آسمان سے اٹھائے جو پھر اسلام کی عزت قائم کرے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ امت محمدیہ کے دل اور ہاتھ مفلوج ہو چکے ہیں اور ان کے اندر عشق کی آگ نہیں رہی تو اس نے اپنا مامور بھیج دیا تا دائمی غیرت مسلمانوں کے اندر پیدا کرے عارضی غیرت بھی دنیا میں بڑے بڑے کام کرا لیتی ہے جیسے بغداد کے برائے نام بادشاہ سے کرا دیا مگر یہ غیرت ایمان کی علامت نہیں اگر ایمانی غیرت ہوتی تو اسلام کے دن اسی وقت پھر جاتے مگر انہوں نے عورت کو چھڑایا اور پھر سو گئے۔ایسی عارضی غیرت سے اسلام زندہ نہیں ہوسکتا۔اسلام اس غیرت سے زندہ ہوتا ہے جو کبھی مٹ نہ سکے، اس آگ سے زندہ ہو سکتا ہے جو کبھی سرد نہ ہو سکے جب تک کہ سارے جہان کو جلا کر راکھ نہ کر دے، اس زخمی دل سے ہو سکتا ہے جو کبھی اند مال نہ پائے ، اسے وہ دیوانہ زندہ کر سکتا جس کی دیوانگی پر ہزار فرزانگیاں قربان کی جا سکیں یہی دیوانگی پیدا کرنے کے لئے ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا میں تشریف لائے اور اسی روح کو آپ کی زندگی میں ہم نے مشاہدہ کیا۔آپ کے اندر سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے، چلتے پھرتے ہم نے دیکھا کہ ایک آگ تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو دنیا میں دوبارہ قائم کیا جاسکے۔آج نادان اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہتک کی مگر ہمیں معلوم ہے کہ آپ کو کس طرح ہر وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت قائم کرنے کی دھن لگی رہتی تھی۔مجھے ایک بات یاد ہے جو گو اس وقت تو مجھے بری ہی لگی تھی مگر آج اس میں بھی ایک لذت محسوس کرتا ہوں۔ہمارے بڑے بھائی میرزا سلطان احمد صاحب مرحوم ایک دفعہ باہر سے یہاں آئے ، ابھی تک انہوں نے بیعت کا اعلان نہیں کیا تھا، میں ان سے ملنے گیا میرے بیٹھے بیٹھے ہی ڈاک آئی۔اس زمانہ میں توہینِ مذاہب کے قانون کا مسودہ تیار ہورہا تھا اس سے بات چل پڑی تو مرزا سلطان احمد صاحب کہنے لگے اچھا ہوا بڑے مرزا صاحب فوت ہو گئے ، وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بڑے مرزا صاحب کہا کرتے تھے، ورنہ سب سے پہلے وہ جیل میں جاتے کیونکہ انہوں نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین کو برداشت نہیں کرنا تھا۔اس وقت تو یہ بات مجھے بری لگی کیونکہ اس میں بے ادبی کا پہلو تھا مگر اس سے اس محبت کا اظہار ضرور ہوتا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی۔تو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی 166