تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 165

ر یک جدید- ایک الہی تحریک جلد اول خطبه جمعه فرموده یکم نومبر 1935ء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر حملے کئے جاتے ہیں مگر کوئی مسلمان نہیں جو ان حملوں کو دور کر سکے، وہ خون کے آنسو روتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گالیاں سن کر ان کے دل جل جاتے ہیں مگر ان کے ہاتھ اور ان کے جسم مفلوج ہیں وہ کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ ان کی کمزوریوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان سے قوت عملیہ چھین لی ہے۔یہ حالت جو آج اسلام کی ہے اس کا کیا علاج ہو سکتا ہے؟ اور سوائے اللہ تعالیٰ کے کون اس کا علاج کر سکتا ہے اس سے زیادہ تکلیف دہ نظارہ دنیا میں اور کیا ہو سکتا ہے؟ بچپن میں ہم ایک واقعہ کتابوں میں پڑھتے تھے اور اسے پڑھ کر آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے مگر اس واقعہ کو اس نظارہ سے کوئی نسبت ہی نہیں۔بیسیوں نے آپ لوگوں میں سے اس واقعہ کو پڑھا ہوگا اور اس پر آنسو بہائے ہوں گے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ رونے کی بات تو اسلام کی موجودہ حالت ہے باقی سب اس کے سامنے بیچ میں وہ سید انشاء کا واقعہ ہے۔ایک زمانہ تھا کہ ان کی عزت اس قدر تھی کہ لکھنو کے بادشاہ اور رؤسا کے ہاتھی آکر ان کے دروازہ پر کھڑے رہتے تھے اور جب وہ دربار میں جاتے تو ایسے ناز سے بیٹھتے کہ دیکھنے والے سمجھتے بے ادبی کر رہے ہیں ان کے ایک دوست کہتے ہیں کہ میں نے ان کے عروج کا یہ زمانہ دیکھا۔اس کے لمبے عرصہ بعد پھر میں ایک بار لکھنؤ آیا، ایک مشاعرہ تھا میں بھی وہاں پہنچا اور دیکھا کہ ایک گدڑی پوش نہایت خستہ حالت میں مجلس میں آیا اور جو نتیوں میں بیٹھ گیا لوگوں نے عرض کیا کہ قبلہ آگے آئیے ! اس طرح ہوتے ہوتے ان کی آمد کی اطلاع صدرنشین نوابوں اور رئیسوں تک پہنچی اور لوگ انہیں کھینچ کر صدر تک لے آئے۔وہ صاحب کہتے ہیں میں نے ایک دوست سے پوچھا کہ یہ صاحب کون ہیں تو اس نے بتایا کہ یہ وہی تمہارے پرانے دوست انشاء اللہ ہیں اور کون ہیں؟ میں بہت حیران ہوا اور پوچھا کہ ان کی یہ حالت! مجھے بتایا گیا کہ جب سے بادشاہ کی نظر پھری ہے یہ حالت ہو گئی ہے۔سید صاحب نے اپنی غزل پڑھی اور اسے وہیں پھینک کر ر بودگی کی حالت میں چلے گئے۔اس پر میں بھی ان کے پیچھے پیچھے ان کے مکان پر گیا وہاں ہاتھی تو کجا اب کوئی دربان بھی نہ تھا میں نے آواز دی کہ کیا میں آسکتا ہوں۔اس پر اندر سے آواز آئی کہ بھائی تمہیں کون جواب دے؟ میں بھی تمہاری بہن ہی ہوں آ جاؤ! یہ سید انشاء اللہ کی بیوی تھیں۔میں اندر گیا تو سید انشاء کو ریت کے ایک تو وہ پر سر رکھ کر لیٹے ہوئے پایا۔نیچے ایک پھٹی ہوئی دری بچھی تھی۔یہ کس قدر عبرت کا مقام ہے مگر کیا اسلام کی حالت آج اس سے کم عبرت ناک ہے؟ سید انشاء اللہ خان کی عزت کیا تھی؟ لکھنو کے ایک بادشاہ کی دی ہوئی عزت تھی مگر اسلام تو ساری دنیا کی بادشاہتوں پر غالب آ گیا تھا اور سب دنیا پر چھا گیا تھا۔پھر انشاء کا اس حالت میں بھی کوئی 165