تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 167
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ یکم نومبر 1935ء دیکھا ورطہ میں اور سالم زندگی کو دیکھا آپ ایک آگ میں کھڑے تھے وہی آگ آپ نے ورثہ میں ہمیں دی ہے اور جس احمدی میں وہ آگ نہیں وہ آپ کا صحیح روحانی بیٹا نہیں۔میں کہہ رہا تھا کہ ایک سال کا عرصہ ہوا یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دی گئیں اور کہا گیا کہ فرعونی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے گا، گالیاں تو آپ کو ہمیشہ ہی دی جاتی ہیں مگر یہ آواز قادیان میں سخت گستاخی اور دل آزار طریق پر اٹھائی گئی، ہمارے کانوں نے اسے سنا اور ہمارے دلوں کو اس نے زخمی کر دیا اور جماعت میں ایک عام جوش اور اس کے نتیجہ میں کام کرنے کا ایک عام ولولہ پیدا ہو گیا مگر میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا وہ زخم ابھی تک ہرا ہے یا مندمل ہو رہا ہے؟ جس کا زخم مندمل ہو رہا ہے وہ سمجھ لے کہ وہ اس ایمان کو نہیں پاسکا جو کامیابی کے لئے ضروری ہے لیکن اگر آج بھی ہرا ہے ، آج بھی تم قربانی کے لئے اسی طرح تیار ہو ، آج بھی اپنی گردن آستانہ الہی پر اسی طرح کٹوانے پر آمادہ ہو تو سمجھو کہ تمہارے اندر ایمان موجود ہے۔اچھی طرح یا درکھو کہ ایمان جنون اور موت ایک ہی چیز ہے سوائے اس کے کہ دنیوی جنون میں عقل ماری جاتی ہے اور صحیح مذہبی جنون میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔پس اپنے دلوں کوٹو لو اور دیکھو کہ تمہارے دل کی آگ کی وہ حالت تو نہیں جو لوہے کی ہوتی ہے جب اسے آگ میں ڈالا جاتا ہے؟ جب اسے آگ سے نکالا جائے تو سرد ہو جاتا ہے۔خدا کی محبت کی آگ ایسی نہیں کہ اس کے بغیر ایمان قائم رہ سکے اس آگ میں مومن کا دل ہر وقت پگھلا رہنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد کر کے بہت سی باتیں دور کر دی ہیں۔اسی مقام قادیان میں گو حقیقتا اس کی زمین میں نہیں ایک سال ہوا کہ احرار اصحاب فیل کی طرح آئے اور ان کے صدر نے اعلان کیا کہ فرعونی تخنت الٹ دیا جائے گا لیکن تمہاری کوشش اور محنت کے بغیر آج کہاں ہے وہ تخت جس پر بیٹھ کر جماعت کے متعلق یہ الفاظ کہے گئے تھے؟ میں نے کئی دفعہ سنایا ہے اور آپ لوگوں کو اچھی طرح یاد ہوگا کہ ایک دفعہ یہود نے ایران کے بادشاہ کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف خوب بھڑ کا یا اور کہا کہ یہ شخص اپنی حکومت قائم کر رہا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ عرب میں ایرانی مقبوضات آپ کے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔بادشاہ ظالم تھا اس نے بغیر تحقیقات کے یمن کے گورنر کو خط لکھا کہ عرب کے جس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اسے گرفتار کر کے ہمارے پاس بھیج دو۔گورنریمن نے اپنے چند آدمی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیئے اور کہلا بھیجا کہ بے شک یہ حکم ظالمانہ ہے اور آپ نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی کہ جس سے شاہ ایران کو غصہ پیدا ہو لیکن چونکہ وہ طاقتور بادشاہ ہے اس لئے آپ ﷺ کی طرف سے انکار کی صورت میں 167