تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 141
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 11 جنوری 1935ء فلا نے علامہ نے یہ لکھا اور فلاں امام نے یہ لکھا؟ کن چیزوں پر حصر کرنے کا نام علم رکھ لیا گیا ہے؟ میرا یہ مطلب نہیں کہ یہ بالکل بے کار چیزیں ہیں، یہ بھی مفید چیزیں ہیں مگر ان کی مزید تحقیق کی چنداں ضرورت نہیں ان کے لئے کافی ذخیرہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب میں آچکا ہے۔اب ان سوالات سے ایسا ہی تعلق ہونا چاہئے تھا جیسا سیر فی الکتب کرتے ہوئے کوئی نئی بات آگئی تو اسے معمولی طور پر نوٹ کر لیا مگر اس پر اپنے دماغوں کو لگانے اور اپنی محنت کو ضائع کرنے کے کیا معنی ہیں ؟ تمہیں اس سے کیا تعلق کہ فلاں امام نے کیا لکھا؟ تمہیں تو اپنے اندر ایک آگ پیدا کرنی چاہئے ، ایمان پیدا کرنا چاہئے، اخلاق پیدا کرنے چاہئیں، امنگیں پیدا کرنی چاہئیں اور تمہیں سمجھنا چاہئے کہ تمہیں خدا نے کسی خاص کام کے لئے پیدا کیا ہے اور تم زمین میں اس کے خلیفہ ہو۔پھر اگر تم اخبار میں پڑھتے اور جہاں جہاں مسلمانوں کو تکالیف و مصائب میں گرفتار پاتے ،تمہارے دلوں میں ٹیسیں اٹھتیں اور تم ان کی بہبودی کے لئے کوششیں کرتے مگر تم دنیا کے حالات سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہو اور جیسے ترکوں کے حرم مشہور ہیں اسی طرح طالب علموں کو حرم بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔پس جہاں ایک طرف مجھے خوشی ہوئی کہ لڑکوں میں اخلاص پایا جاتا ہے بلکہ بعض کا اخلاص تو ایسا تھا جو دلوں پر رقت طاری کر دیتا اور وہ اپنی مثال آپ تھا مگر وہ ان بے بس قیدیوں سے مشابہت رکھتے تھے جن کے ہاتھ پاؤں جکڑ دیئے جائیں اور وہ مرنے کے لئے تو تیار ہوں مگر انہیں یہ معلوم نہ ہو کہ اپنی جان کو کس طرح بچایا جا سکتا ہے؟ لیکن مومن کو خدا تعالیٰ نے اس لئے تو پیدا نہیں کیا کہ وہ مر جائے بلکہ اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ خود بھی زندہ رہے اور دوسروں کو بھی زندہ رکھے۔نپولین کے گارڈز کی مثال میں نے کئی دفعہ سنائی ہے کہ ایک جنگ میں ان کا سامان ختم ہو گیا لوگوں نے انہیں کہا کہ میدان سے بھاگتے کیوں نہیں تو انہوں نے کہا کہ نپولین نے ہمیں بھا گنا سکھایا نہیں۔اگر میں ان طالب علموں سے کہتا کہ جاؤ اور آگ میں کود پڑو تو وہ آگ میں کودنے کے لئے تیار تھے، اگر میں انہیں کہتا کہ سمندر میں کود جاؤ تو وہ سمندر میں بھی کو دنے پر بھی تیار تھے مگر وہ آگ سے نکلنے کا راستہ نہیں جانتے اور نہ سمندر میں تیرنے کا مادہ ان میں ہے۔حالانکہ جب میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ مرجاؤ تو اس کا یہ مطلب تو نہیں ہوتا کہ اس کا نتیجہ تمہاری موت ہوگا کیونکہ مومن کو خدا کبھی بلاک نہیں کرتا اور مومن کی جان سے زیادہ اور کوئی قیمتی چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اس سے زیادہ صدمہ اور کسی وقت نہیں ہوتا جتنا ایک مومن بندے کی جان نکالتے وقت اسے ہوتا ہے۔پس مومن کی جان تو اتنی قیمتی چیز ہے کہ اس کے نکلنے سے عرش الہی بھی کانپ اٹھتا ہے اور گو 141