تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 140

خطبہ جمعہ فرمود : 11 جنوری 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول میں موجزن ہوتی ہیں اور اگر امنگ پیدا ہو تو پھر وہ چھپ نہیں سکتی بلکہ ظاہر ہو کر رہتی ہے۔بند ہنڈیا میں بھی اگر دھواں جمع ہو جائے تو وہ دھوئیں کی وجہ سے اچھلنے لگ جاتی ہے۔پس ایک ہنڈیا دھوئیں سے اچھل سکتی ہے تو کیا مومن کے اندر اگر وسعت خیال اور اُمنگیں داخل ہو جائیں تو وہ نہیں اچھلے گا؟ ریل ایجاد ہوئی تو محض اسی بات سے کہ ایجاد کرنے والے نے ایک دن دیکھا کہ بند ہنڈیا دھوئیں سے اچھل رہی ہے۔اس کے ذہن میں معابات آئی اور اس نے ایک انجن بنایا جس میں دھواں بھر دیا اور وہ چلنے لگ گیا۔تو بخارات بھی اگر بند ہوں تو ہنڈیا کو اچھال سکتے ہیں۔تو جس کے دل میں ایمان اور محبت کا دھواں اٹھ رہا ہو وہ کس طرح کم حوصلہ ہو سکتے ہیں؟ مگر میں نے جامعہ کے طالب علموں کو ایسا دیکھا کہ گویا وہ بڑے بڑے پتھروں کے نیچے دبے پڑے ہیں۔حالانکہ انہیں غباروں کی طرح اڑنا چاہئے تھا اور بجائے اس کے کہ ہم کہتے جاؤ اور خدا کے دین کی تبلیغ کرو وہ خود دیوانہ وار تبلیغ کے لئے نکل کھڑے ہوتے مگر ان غریبوں نے جو ایمان پیدا کیا مدرسوں اور پروفیسروں نے اسے صیقل کرنے کی طرف دھیان ہی نہیں کیا اور میں یہ سمجھتا ہوں سینکڑوں خون ہیں جو ان کی گردنوں پر رکھے جائیں گے۔جس طرح ایک دیوار کے سامنے جب آدمی کھڑا ہو جائے تو اسے آگے جانے کا راستہ نہیں ملتا اسی طرح میں نے ان کے دماغ میں کرید کرید کر جانا چاہا مگر مجھے معلوم ہوا کہ ان کا دماغ محض ایک دیوار ہے سر ٹکرا کر مر جاؤ مگر آگے راستہ نہیں ملے گا۔غضب یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں تک انہوں نے نہیں پڑھیں۔جس سے بھی سوال کیا گیا ، کورس کی کتابوں کے سوا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں میں سے دو ایک کے علاوہ وہ کسی کا نام نہ لے سکا۔اگر انہیں اپنے ایمانوں کی مضبوطی کا خیال ہوتا تو کیا ہوسکتا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کا مطالعہ نہ کرتے؟ مجھے تو یاد ہے جب میں سکول میں پڑھا کرتا تھا ہمیشہ مجھے کوئی نہ کوئی بیماری رہتی تھی اور مدرسہ سے بھی اکثر ناغے ہوتے مگر اس عمر میں ہی میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھی ہیں۔بعض دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے بستہ میں کوئی نئی کتاب رکھنی تو وہیں کھسکا کر لے جانی اور شروع سے آخر تک اسے پڑھنا بلکہ موجودہ عمر میں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کم کتابیں پڑھی ہیں کیونکہ اب میرے علم کے استعمال کرنے کا وقت ہے مگر چھوٹی عمر میں جب مدرسہ کی پڑھائی سے بوجہ بیماری فراغت ہوتی اور اور کام نہ ہوتا ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں میں بہت پڑھا کرتا تھا اور در حقیقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں ہی علم کا سمندر ہیں۔اس وقت جبکہ اکثر لوگ خود ی مسیح کو وفات یافتہ کہ رہے ہیں ان بحثوں میں کیا رکھا ہے کہ وفات مسیح کے یہ دلائل ہیں اور 140