تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 142
خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جنوری 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول مومن کو خدا ہلاک کرنے کے لئے پیدا نہیں کرتا مگر مومن کا یہ فرض ضرور ہوتا کہ وہ اپنی جان دینے کے لئے تیار رہے۔ہاں اپنی تدبیروں کو وسیع رکھے اور نہ صرف اپنی جان بلکہ ہزاروں جانوں کے بچانے کے خیالات اس کے دل میں سمائے رہیں۔پس میں جہاں جماعت کو قربانیوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں وہاں ذمہ دار کارکنوں اور صدر انجمن کو بھی توجہ دلاتا ہوں کیونکہ ان پر بھی بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور وہ بھی اسی طرح ان طالب علموں کے خون میں شریک ہے جس طرح جامعہ کے پروفیسر اور اساتذہ اس میں شریک ہیں۔صدر انجمن محض ریزولیوشن پاس کر دینے کا نام نہیں نہ صدر انجمن اس امر کا نام ہے کہ کسی صیغہ کے لئے افسر مقرر کر کے اسے نگرانی کے بغیر چھوڑ دیا جائے۔صدر انجمن کا فرض ہے کہ وہ طالب علموں کے ذہنوں ، ان کی امنگوں اور ان کے ارادوں میں وسعت پیدا کر دے، ان کے اندر ایک بیداری اور زندگی کی روح پیدا کرے، ان کے خیالات میں وسعت پیدا کرے اور اگر مدرس مفید مطلب کام کرنے والے نہ ہوں تو صدر انجمن کا فرض ہے کہ انہیں نکال کر باہر کرے۔ہم نے طالب علموں کا خالی اخلاص کیا کرنا ہے؟ اس کے ساتھ کچھ سمجھ اور عقل بھی تو چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیشہ حضرت ابو ہریرۃ کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ حضرت ابو ہریرہ میں تفقہ کا مادہ دوسرے صحابہ سے کم تھا مولویوں نے اس پر شور مچایا مگر جو صحیح بات ہو وہ صحیح ہی ہوتی ہے۔آج کل جس قدر عیسائیوں کے مفید مطلب احادیث ملتی ہیں وہ سب حضرت ابو ہریرہ سے ہی مروی ہیں۔اس کی وجہ تھی کہ وہ سیاق وسباق کو نہ دیکھتے اور گفتگو کے بعض ٹکڑے بغیر پوری طرح سمجھے آگے بیان کر دیتے مگر باقی صحابہ سیاق و سباق کو سمجھ کر روایت کرتے۔اسی طرح اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق روایتیں چھینی شروع ہوئی ہیں جن میں سے کئی ایسے لوگوں کی طرف سے بیان کی جاتی ہیں جنہیں تفقہ حاصل نہیں ہوتا اور اس وجہ سے ایسی روایتیں چھپ جاتی ہیں جن پر لوگ ہمارے سامنے اعتراض کرنا شروع کر دیتے ہیں۔چنانچہ ایک دفعہ روایت چھپ گئی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب آتھم کی میعاد میں سے صرف ایک دن باقی رہ گیا تو بعض لوگوں سے کہا کہ وہ اتنے چنوں پر اتنی بار فلاں سورۃ کا وظیفہ پڑھ کر آپ کے پاس لائیں۔جب وہ وظیفہ پڑھ کر چنے آپ کے پاس لائے تو آپ انہیں قادیان سے باہر لے گئے اور ایک غیر آباد کنوئیں میں انہیں پھینک کر جلدی سے منہ پھیر کر واپس لوٹ آئے۔میرے سامنے جب اس کے متعلق اعتراض پیش ہوا تو میں نے روایت درج کرنے والوں سے پوچھا کہ یہ روایت آپ نے کیوں درج کر دی؟ یہ تو 142