تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 131
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول خطبه جمعه فرمود : 11 جنوری 1935ء ہیں۔مثلاً جو تبلیغ کا کام تھا اور جس کے متعلق میں نے مطالبہ کیا تھا کہ دوست اپنی زندگیاں وقف کر دیں یا جو لوگ سال میں یا دو دو تین تین سال کے بعد لمبی چھٹیاں لے سکتے ہوں وہ اپنی فرصت اور رخصت کے اوقات کو خدا تعالیٰ کے دین کیلئے وقف کر دیں تا کہ انہیں تبلیغ پر لگایا جاس کے اور لوگوں کو احمدیت کی طرف متوجہ کیا جا سکے۔اس کام کیلئے فی الحال دو مرکز قائم کئے گئے ہیں اور کام بھی شروع کر دیا گیا ہے لیکن میں ان مرکزوں کا نام نہیں بتاتا کیونکہ ان کا مخفی رکھنا ضروری ہے اس کے علاوہ چار سائیکلسٹ بھی روانہ ہو چکے ہیں لیکن ساری سکیم پر دوبارہ غور کرنے اور عملی پہلوؤں کو اپنے ذہن میں مستحضر کرنے کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں پانچ نہیں بلکہ سولہ سائیکل سواروں کی ضرورت ہے اور اب تجویز یہی ہے کہ سولہ سائیکلسٹ مقرر کئے جائیں اور چونکہ تجویز کی وسعت کے ساتھ زیادہ سائیکلوں کی ضرورت ہے اس لئے میں دوستوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بعض دوست ایسے ہوتے ہیں جو پہلے سائیکل پر سوار ہوا کرتے تھے مگر اس کے بعد انہوں نے موٹر خرید لیایا پہلے سائیکل پر سوار ہوا کرتے تھے مگر اس کے بعد انہوں نے گھوڑا خرید لیا یا اب سائیکل پر چڑھنا ہی انہوں نے چھوڑ دیا اور اس طرح سائیکل ان کے پاس بے کار پڑے ہوئے ہوتے ہیں۔پس اگر ایسے دوست ہماری جماعت میں ہوں خواہ وہ قادیان کے ہوں یا باہر کے تو وہ اس طرح بھی ثواب کما سکتے ہیں کہ اپنے اپنے سائیکل یہاں بھجوا دیں۔اگر ہم خریدنے لگیں تو آٹھ نو سور و پیہ ہمارا خرچ ہو جائے گا لیکن اگر اس طرح سائیکل آجائیں تو ایک ایک سائیکل پر خواہ دس پندرہ روپے بطور مرمت خرچ ہو جائیں تو پھر بھی سوڈیڑھ سو روپیہ میں کئی سائیکل تیار ہو سکتے ہیں اور اس طرح بہت سی بچت ہو سکتی ہے۔اب جو چار سائیکلسٹ گئے ہیں ان میں سے ایک کے پاس اپنا بائیسکل تھا جسے مرمت کرا دیا گیا، دوسائیکل بعض دوستوں کی طرف سے ہدیۂ ملے تھے اور ایک سائیکل خرید لیا گیا چونکہ یہ تمام سائیکل سوار پندرہ ہیں دن کے اندر اندر روانہ ہونے والے ہیں اس لئے قادیان یا باہر کی جماعت میں سے اگر کوئی دوست سائیکل دے سکتے ہوں تو بہت جلد بھجوا دیں۔غرض اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب سروے کا کام بھی شروع ہو گیا ہے اور تبلیغ کا کام بھی شروع ہو گیا ہے۔گو ابھی یہ کام چھوٹے پیمانہ پر شروع کیا گیا ہے تا تمام مشکلات اور حالات ہمارے سامنے آجائیں اور پھر ان کو دیکھ کر اپنے کام کو پھیلا سکیں۔اگر پہلی دفعہ ہی کام کو زیادہ پھیلا دیا جائے تو بعد میں بعض دفعہ اپنی طاقت کو سمیٹنا پڑتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے بہت سی طاقت ضائع کر دی۔پس اس لئے کہ ابتدا میں ہم ایک دم اپنی تمام طاقت صرف نہ کر دیں اور اس لئے کہ تا حالات کا تجربہ ہو جائے کام 131