تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 130

خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جنوری 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول لوگ ہیں جو پڑھے لکھے نہیں۔پھر جو لوگ پڑھ بھی سکتے ہیں ان میں سے کچھ غریب ہوتے ہیں اور وہ اپنی غربت کی وجہ سے اخبار نہیں منگوا سکتے ، بہت سے سست ہوتے ہیں اور بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو لکھے پڑھے ہونے کے باوجود اخبار نہیں منگواتے اور اگر ان کے قریب کوئی اور شخص اخبار منگواتا ہو تو اسی سے پوچھتے رہتے ہیں: سنائیے ! " الفضل میں سے کوئی تازہ بات۔گویا وہ اتنا ہی کافی سمجھتے ہیں کہ اخبار لے کر پڑھ لیا یا کسی دوسرے سے کوئی ایک آدھ خبر معلوم کر لی خود اس کو خرید نا ضروری نہیں سمجھتے۔پس ان تمام لوگوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ جماعت کے عہدیداروں کا فرض ہے کہ وہ جمعہ یا اتوار کے دن یا ہفتہ میں کسی اور موقع پر میرا ہر خطبہ لوگوں کو سنا دیا کریں بلکہ جماعتوں کا اصل کام یہی ہونا چاہئے اور ہر جگہ کی جماعت کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ وہ میرا خطبہ جمعہ تفصیلاً یا خلاصۂ لوگوں کو جمعہ یا اتوار کے دن سنادیا کریں۔جس شخص کے سپر د خدا تعالیٰ جماعت کی اصلاح کا کام کرتا ہے اسے طاقت بھی ایسی بخشتا ہے جو دلوں کو صاف کرنے والی ہوتی ہے اور جو اثر اس کے کلام میں ہوتا ہے وہ دوسرے کسی اور کے کلام میں نہیں ہوسکتا لیکن میں نے دیکھا ہے کہ سیکریٹریوں یا امرا کو یہ شوق ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ خود ہی خطبہ پڑھیں۔مجھے کئی رپورٹیں ایسی آتی رہتی ہیں کہ جماعت کے لوگ بعض اہم خطبات کی نسبت چاہتے ہیں کہ و الفضل سے پڑھ کر سنا دیئے جائیں مگر سیکریٹری یا امیر مصر ہوتے ہیں کہ نہیں وہ اپنا ہی خطبہ سنائیں گے۔گویا وہ اپنی تقریر کے شوق اور لیڈری کی امنگ میں ان فوائد سے قوم کو محروم کر دیتے ہیں جو جماعت کیلئے ایسے ہی ضروری ہوتے ہیں جیسے بچہ کیلئے دودھ۔پس چونکہ یہ نہایت ہی خطر ناک پالیسی ہے اس لئے آئندہ جماعتوں کو چاہئے کہ جو خطبات میں پڑھوں انہیں وہ جب بھی موقع ملے جماعت کو سناد یا کریں۔جو زیادہ اہم ہوں انہیں تو جمعہ کے خطبہ کے طور پر سنادیں اور جن میں کسی خاص سکیم کا ذکر نہ ہوا سے جمعہ یا اتوار کو کوئی الگ مجلس کر کے خطبہ یا خطبے کا خلاصہ سنا دیا کریں۔بعض دفعہ خطبہ لمبا ہوتا ہے یا جماعت میں سے اکثر نے پڑھا ہوا ہوتا ہے اس صورت میں خطبے کا خلاصہ سنا دینا چاہئے مگر بہر حال جماعت کے ہر ایک فرد تک خطبات کی آواز پہنچنی چاہئے جو دراصل آواز پہنچانے کا اکیلا ذریعہ ہے ورنہ امام کے لئے اور کون سا طریق ہو سکتا ہے جس سے کام لے کر وہ جماعت کو اپنے مافی الضمیر سے آگاہ کر سکے؟ جماعت کے نام خطوط تو میں لکھ نہیں سکتا اس کے علاوہ کتا بیں بھی میں اب نہیں لکھتا۔پس یہ خطبات ہی ایسی چیز ہیں جس کے ذریعہ میں اپنا عندیہ یاوہ عندیہ جو خدا تعالیٰ سے معلوم کروں ظاہر کرتا رہتا ہوں۔اس کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ دوسرے کاموں میں سے بھی بعض کام شروع کر دیئے گئے 130