تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 132
خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جنوری 1935ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول چھوٹے پیمانے پر شروع کیا گیا ہے جسے تجربہ کے بعد انشاء اللہ تعالیٰ وسیع کر دیا جائے گا۔جن لوگوں نے میرے مطالبہ پر رھتیں وقف کی ہیں ان کی تعداد بھی بہت تھوڑی ہے۔غالباً زمینداروں اور ملازمت پیشہ لوگوں کو ملا کر سو کے قریب تعداد ہے۔حالانکہ زمینداروں کو ملا کر ہماری جماعت میں تبلیغ کے قابل آدمی ہندوستان میں ہزاروں کی تعداد میں مل سکتے ہیں۔پس چونکہ اس مطالبہ کے جواب میں ابھی بہت ہی کم لوگوں نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے اس لئے میں پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس رنگ میں اپنی زندگیوں کو دین کی خدمت کے لئے وقف کریں۔میں پہلے بھی کئی دفعہ بتا چکا ہوں کہ دنیا میں روپیہ کے ذریعہ بھی تبلیغ نہیں ہوئی اور جو قوم یہ بجھتی ہے کہ روپیہ کے ذریعہ وہ اکناف عالم تک اپنی تبلیغ کو پہنچا دے گی اس سے زیادہ فریب خوردہ، اس سے زیادہ احمق اور اس سے زیادہ دیوانی قوم دنیا میں اور کوئی نہیں۔روپیہ کے ذریعہ سے ہونے والا کام صرف ایک ظاہری چیز ہے جس کے اندر کوئی حقیقت نہیں۔تم روپیہ کو قلابہ توسمجھ سکتے ہو جو دو چیزوں کو آپس میں ملا دیتا ہے مگر وہ عارضی چیز ہے جس کے اندر کوئی پائیداری نہیں تم کیلوں سے مکان نہیں بنا سکتے بلکہ کیلوں کا اتناہی کام ہے کہ وہ دروازوں اور کھڑکیوں کو جوڑ دیں۔جس چیز کے ساتھ مذہبی جماعتیں دنیا میں ترقی کیا کرتی ہیں وہ ذات کی قربانی ہوتی ہے نہ کہ روپیہ کی۔روپیہ کے ذریعہ سے مذہبی جماعتوں نے دنیا میں کبھی ترقی نہیں کی کیونکہ مذہب دلوں کو جیتا ہے اور روپیہ کسی کے دل کو فتح نہیں کر سکتا۔روپیہ سے فتح کئے ہوئے لوگ زیادہ سے زیادہ غلام کہلائیں گے مگر مذہب تو وہ چیز ہے جو غلامی سے لوگوں کو نجات دلاتا ہے۔اگر تم روپیہ سے دنیا کو فتح کرتے ہو تو تم لوگوں کو غلام بناتے ہو کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ تم نے دنیا کو خرید لیا مگر کیا غلام بھی دنیا میں کوئی کام کیا کرتا ہے؟ اس صورت میں تم دنیا کو ترقی کی طرف نہیں لاتے بلکہ اسے اور بھی زیادہ ذلیل اور تباہ کرتے ہو۔کیا تم سمجھتے ہو کہ بچے جس طرح اپنے ماں باپ کی خدمت کرتے ہیں غلام اس سے بڑھ کر خدمت کیا کرتے ہیں؟ یا غلام اور بچہ کی ایک ہی قیمت ہوتی ہے؟ اگر نہیں تو اس کی کیا وجہ ہے اور کیوں بچہ قیمتی ہوتا ہے مگر غلام قیمت نہیں ہوتا ؟ اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ تم نے غلام کو روپیہ سے خریدا ہوا ہوتا ہے مگر بچہ کو ماں نے اپنی جان دے کر خریدا ہوتا ہے۔بچہ کی قیمت کیا ہے؟ بچہ کی قیمت ماں کا نو مہینے اپنی زندگی کا اس کے لئے وقف کر دینا ہے۔پھر بچہ کی قیمت زچگی کے وقت ماں کا اپنے آپ کو قربانی کیلئے پیش کر دینا ہے۔زچگی کیا ہے؟ ایک موت ہے جس کے بعد بچہ پیدا ہوتا ہے۔جس دن بچہ کی پیدائش ہوتی ہے اس دن گھر میں دو پیدائشیں ہوتی ہیں ایک ماں کی پیدائش ہوتی ہے اور ایک بچہ کی 132