تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 129

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبه جمعه فرموده 11 جنوری 1935ء نام لکھا دیتے ہیں مگر بعد میں اپنے وعدوں کو پورا نہیں کرتے اور گو ہماری جماعت میں ایسا عنصر بہت کم ہوتا ہے لیکن چونکہ دوسرے چندوں میں اصرار کی عادت کی وجہ سے امکان ہے کہ ان چندوں میں عدم اصرار انہیں ست کر دے۔اس لحاظ سے ممکن ہے کہ رقم میرے اوپر بیان کردہ اندازہ سے کچھ کم موصول ہو۔پھر جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کچھ رقم انگریزی ترجمہ قرآن کے لئے علیحدہ کر لی جائے گی اور کچھ رقم خرچ کے اندازوں کی غلطی کی وجہ سے بیان کردہ مدات میں ڈالنی پڑے گی کیونکہ بعد میں مزید غور کرنے سے بعض مدات کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ ان پر اس سے زیادہ خرچ آئے گا جتنا میں نے بیان کیا تھا ان تمام اخراجات کے بعد جو ر تم بیچ رہے گی وہ آنے والے دونوں سالوں میں تقسیم کر دی جائے گی۔امانت کے متعلق جو وعدے ہوئے ہیں ان سے میرا اندازہ ہے کہ تین چار ہزار روپیہ ماہوار کی رقم آئے گی لیکن ہم یہ خیال کرتے تھے اور بات بھی معقول تھی کہ جنوری سے مدامانت میں ادا ئیگی شروع ہو جائے گی کیونکہ جنہوں نے دسمبر میں وعدے کئے تھے وہ وعدے انہوں نے اس وقت کئے جبکہ وہ اپنی تنخواہیں خرچ کر چکے تھے۔پس امید کی جاتی تھی کہ وہ جنوری سے امانتیں جمع کرانی شروع کر دیں گے اور میں اب بھی امید کرتا ہوں کہ جنہوں نے امانت کے وعدے کئے ہیں ان کے ذہن میں یہی بات ہوگی مگر جن کے ذہن میں یہ بات نہ ہو انہیں چاہئے کہ وہ یہ واضح کر دیں کہ وہ کس مہینہ سے اپنی امانت ادا کرنی شروع کریں گے اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو دفتر امانت یہی سمجھے گا کہ جنوری سے انہوں نے وعدہ کیا ہوا ہے اور یہ کہ انہوں نے اپنے وعدہ پر عمل نہیں کیا اس صورت میں ایک دوماہ کی غفلت کے بعد ان کا نام دفتر سے کاٹ دیا جائے گا اور سمجھا جائے گا کہ انہوں نے صرف دکھاوے سے کام لیا حقیقت اس میں نہیں تھی۔پس میں اس اعلان کے ذریعہ قادیان والوں کو براہِ راست اور باہر کی جماعتوں کو اخبار کے ذریعہ توجہ دلاتا ہوں کہ ہم نے مجوزہ سکیم پر کام شروع کر دیا ہے اور جماعتوں کے سیکریٹریوں اور امرا کو چاہئے کہ وہ میرا یہ خطبہ لوگوں کو پڑھ کر سنا دیں کیونکہ اس کے سوا میری آواز ان تک پہنچنے کا اور کوئی ذریعہ نہیں۔ہماری جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں کی جماعت ہے مگر اخبار الفضل“ کی اشاعت پندرہ ، سولہ سو کے درمیان رہتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہزار ہا آدمی ہماری جماعت میں ایسے ہیں جن کے کانوں تک میری آواز نہیں پہنچتی۔بنگالی اُردو کا ایک حرف تک نہیں جانتے۔پس وہ الفضل“ سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے۔پھر ہمارے ملک میں ایک بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے۔اندازہ لگایا گیا ہے کہ مسلمانوں میں سے صرف تین چار فیصدی تعلیم یافتہ ہیں باقی 97،96 فیصدی ایسے 129