تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 128
خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جنوری 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول لحاظ سے اس نے ترقی کی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ان لوگوں کا حق تھا کہ گور قم کے لحاظ سے ان کی طرف سے قلیل روپیہ آئے مگر انہیں اپنے اخلاص کے دکھانے کا موقع دیا جائے۔باقی باہر کی جماعتیں ہیں اور کچھ وہ لوگ بھی جنہیں ابھی تک اس تحریک کی خبر نہیں ہوئی اور گو ایسے لوگ بہت قلیل ہیں مگر بہر حال ہوتے ضرور ہیں۔چنانچہ پرسوں ہی مجھے ایک خط آیا کہ مجھے اس تحریک کی ابھی ابھی اطلاع ملی ہے کیونکہ میں سفر پر تھا اور مجھے اخبار دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔پس ہو سکتا ہے کہ ہندوستان میں بھی ایسے بے خبر لوگ موجود ہوں مگر یہ قلیل تعداد ہے اور ہمیں سمجھنا چاہئے کہ ان تمام حالات کو دیکھ کر انداز 75 ہزار کے لگ بھگ وعدے ہو جائیں گے۔جو میرے مطالبہ سے اڑھائی گنے سے زیادہ یعنی پونے تین گنے کی رقم ہے۔ان رقوم کے علاوہ جو کام دوسرا تھا اس میں دو کمیٹیوں نے کام شروع کر دیا ہے۔پرو پیگنڈا کمیٹی نے بھی کام شروع کر دیا ہے اور امانت کمیٹی نے بھی اپنے اجلاس شروع کر دیئے ہیں۔گو عملی کام ابھی اس نے شروع نہیں کیا مگر امید ہے کہ یہ دونوں قسم کے کام اس مہینہ میں اچھی طرح شروع ہو جائیں گے۔امانت میں جن دوستوں نے اپنے نام لکھوائے ہیں خواہ وہ قادیان میں رہتے ہوں یا باہر ان سب کو میں یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ چونکہ یہ ان کے اخلاص کا امتحان ہے اس لئے اس تحریک میں زیادہ یاد دہانیاں نہیں کرائی جائیں گی اگر کوئی شخص با قاعدہ چندہ نہیں دے گا تو دفتر امانت ایک دو یاد دہانیوں کے بعد اس کا نام رجسٹر سے کاٹ ڈالے گا اور سمجھا جائے گا کہ اس نے اپنے اخلاص کا محض مظاہرہ کیا تھا۔حقیقت اس میں نہیں تھی۔پس دوست اس امر کی امید نہ رکھیں کہ لوگ ان کے پاس پہنچیں گے اور کہیں گے کہ لاؤ چندہ۔صدر انجمن والے چندوں میں پیچھے پڑ کر چندہ لیا جاتا ہے مگر یہ مطاوعت والے چندے ہیں اس لئے جس طرح اس تحریک میں شامل کرنے کے لئے کسی پر جبر نہیں کیا گیا اسی طرح شامل ہونے کے بعد بھی کوئی جبر نہیں ہوگا۔پس اگر کوئی دوست اس ثواب میں شریک ہونے سے اس وجہ سے محروم رہ جائے کہ اس سے چندہ مانگا نہیں گیا تو اس کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوگی۔میری ہدایات دفاتر متعلقہ کو یہی ہوں گی کہ وہ چندہ لوگوں سے مانگیں نہیں مگر چونکہ انسان کے ساتھ نسیان بھی لگا ہوا ہے اس لئے کبھی کبھار اگر ایک دو یاد دہانیاں کر دی جائیں تو کوئی حرج نہیں مگر وعدے والے پر بھی اصرار نہ کیا جائے اور خالص طور پر اس میں لوگوں کو اپنی مرضی اور شوق کے ظاہر کرنے کا موقع دیا جائے ممکن ہے اس لحاظ سے کہ چندہ مانگنے کیلئے دفاتر متعلقہ کی طرف سے زیادہ اصرار نہیں کیا جائے گا رقم کچھ کم ہو جائے اور غفلت ، سستی یا کمزوری ایمان کی وجہ سے بعض لوگ رہ جائیں۔پھر کئی لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو فوری جوش میں آکر اپنا 128