تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 139

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد اول خطبه جمعه فرموده 11 جنوری 1935ء کہنے والے میں عقل نہیں ہے اور نہ وسعت خیال ہے۔جس طرح ہوگا تو سو ر کیا کرتا ہے اگر سور کی زبان ہوتی اور اس سے پوچھا جاتا کہ تو کس طرح حملہ کرے گا ؟ تو وہ یہی کہتا کہ جس طرح ہوگا کروں گا۔بس سؤر کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ سیدھا چل پڑتا ہے آگے نیزہ لے کر بیٹھو تو وہ نیزہ پر حملہ کر دے گا، بندوق لے کر بیٹھو تو بندوق کی گولی کی طرف دوڑتا چلا آئے گا۔پس یہ تو سوروں والا حملہ ہے کہ سید ھے چلے گئے اور عواقب کا کوئی خیال نہ کیا۔حالانکہ دل میں ارادے یہ ہونے چاہئیں کہ ہم نے دنیا میں کوئی نیک اور مفید تغیر کرتا ہے مگر اس قسم کی کوئی امنگ میں نے نو جوانوں میں نہیں دیکھی اور اسی وجہ سے جتنے اہم اور ضروری کام ہیں وہ اس تبلیغی شعبہ سے پوشیدہ ہو گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جماعت ترقی نہیں کرتی حالانکہ مبلغ کا کام یہ ہے کہ وہ دنیا میں ایک آگ لگا دے جہاں جائے وہاں دیا سلائی لگائے اور آگے چلا جائے۔اگر مبلغ ایک جنگل کو صاف کرنے بیٹھے تو وہ اور اس کی نسلیں بھی ہزار سال میں ایک جنگل کو صاف نہیں کر سکتیں لیکن اگر وہ سوکھی لکڑیوں اور پتوں وغیرہ کو اکٹھا کر کے دیا سلائی لگا تا چلا جائے تو چند دنوں میں ہی تمام جنگل راکھ کا ڈھیر ہو جائے گا۔پس مجھے نہایت ہی افسوس سے معلوم ہوا کہ مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کی تعلیم نہایت ہی ناقص، نہایت ہی ردی اور نہایت ہی ناپسندیدہ حالت میں ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ طالب علموں میں ایمان اور اخلاص نہایت اعلیٰ درجہ کا ہے۔چنانچہ ایک طالب علم سے جب میں نے پوچھا کہ تم یہ سمجھ لو کہ ہم نے جس امداد کا وعدہ کیا ہے ممکن ہے اتنا بھی نہ دے سکیں تو اس نے جواب دیا کہ جو کچھ آپ دے رہے ہیں یہ تو احسان ہے۔اللہ تعالیٰ کی قسم ! آپ اس وقت کہیں کہ چین چلے جاؤ تو میں ٹوکری ہاتھ میں لے کر مزدوری کرتا ہوا روانہ ہو جاؤں گا۔یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ لڑکوں کی ذات میں اخلاص ہے مگر یہ اخلاص استاد تو پیدا نہیں کرتے؟ یہ ماحول کا نتیجہ ہے ورنہ جو کام استادوں کا ہونا چاہئے تھا وہ نہیں ہوا۔وہ ہیرے ہیں مگر بے کاٹے ہوئے۔ہم نے مدرسہ اور جامعہ میں انہیں اس لئے بھیجا تھا کہ تا وہ ہیرے ہمیں کاٹ کر بھیجے جائیں مگر وہ پھر بے کئے ہمارے پاس آگئے۔یہ ایک اتنی بڑی کو تاہی ہے کہ میں سمجھتا ہوں سینکڑوں طالب علم ہیں جن کی زندگیاں تباہ کر دی گئیں اور انہیں ملنے اور مسجد کے کنگال مولوی بنادیا گیا ہے۔نہ ان کے دماغوں میں کوئی تعمیری پروگرام ہے، نہ ان کی آنکھوں میں عشق ہے اور نہ ان کے سینوں میں سلگتی ہوئی آگ ہے۔اگر آگ ہے تو دبی ہوئی مگر دبی ہوئی آگ کیا فائدہ دے سکتی ہے؟ بند ایمان کوئی فائدہ نہیں دے سکتا بلکہ وہی ایمان فائدہ دے سکتا ہے جو کھلا ہو اور ایمان جب کھلتا ہے تو انسان کو وسعت خیال حاصل ہو جاتی ہے، روز نئی نئی سکیمیں اسے سوجھتی ہیں، نئے سے نئے ارادے اور نئی سے نئی امنگیں اس کے دل 139