تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 52 of 115

تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 52

52 کرنے والوں میں سے ایک گروہ تو وہ ہے جس کو اس پر اعتقاد ہی نہیں اور وہ اس کو خدا تعالیٰ کا کلام ہی نہیں سمجھتے۔یہ لوگ تو بہت دور پڑے ہوئے ہیں۔لیکن وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور نجات کا شفا بخش نسخہ ہے اگر وہ اس پر عمل نہ کریں تو کس قدر تعجب اور افسوس کی بات ہے۔ان میں سے بہت سے تو ایسے ہیں جنہوں نے ساری عمر میں کبھی اسے پڑھا ہی نہیں۔پس ایسے آدمی جو خدا تعالیٰ کے کلام سے ایسے غافل اور لا پرواہ ہیں۔ان کی ایسی مثال ہے کہ ایک شخص کو معلوم ہے کہ فلاں چشمہ نہایت ہی مصفی اور شیریں اور بخنک ہے اور اس کا پانی بہت سی امراض کے واسطے اکسیر اور شفاء ہے۔( ان کو یہ علم ہو کہ بہت میٹھے پانی والا یہ چشمہ ہے۔ٹھنڈا اور میٹھا پانی ہے اور اس کا پانی بہت سی بیماریوں کا علاج بھی ہے )۔اور یہ علم اس کو یقینی ہے لیکن باوجود اس علم کے اور باوجود پیاسا ہونے اور بہت سی امراض میں مبتلا ہونے کے وہ اس کے پاس نہیں جاتا۔تو یہ اس کی کیسی بد قسمتی اور جہالت ہے۔اسے تو چاہئے تھا کہ وہ اس چشمے پر منہ رکھ دیتا اور سیراب ہو کر اس کے لطف اور شفاء بخش پانی سے حظ اٹھاتا۔مگر باوجو دعلم کے اس سے ویسا ہی دور ہے جیسا کہ ایک بے خبر۔اور اس وقت تک اس سے دُور رہتا ہے جو موت آ کر خاتمہ کر دیتی ہے۔اس شخص کی حالت بہت ہی عبرت بخش اور نصیحت خیز ہے۔مسلمانوں کی حالت اس وقت ایسی ہی ہو رہی ہے۔وہ جانتے ہیں کہ ساری ترقیوں اور کامیابیوں کی کلید یہی قرآن شریف ہے جس پر ہم کو عمل کرنا چاہئے۔مگر نہیں۔اس کی پرواہ بھی نہیں کی جاتی۔ایک شخص جو نہایت ہمدردی اور خیر خواہی کے ساتھ اور پھر نری ہمدردی ہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم اور ایماء سے اس طرف بلاوے تو اسے کذاب اور دجال کہا