تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 51 of 115

تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 51

51 پس یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم نے اس مسیح محمدی کی جماعت میں شامل ہو کر اللہ تعالیٰ کی کامل شریعت جو قرآن کریم کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے اس کے مقام کو سمجھنے کا عہد کیا ہے۔آنحضرت سلیہ ایام کے مقام خاتمیت نبوت کا ادراک حاصل کیا ہے جبکہ دوسرے مسلمان اس سے محروم ہیں۔پس یہ اعزاز ہمیں دوسروں سے منفرد کرتا ہے اور اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کو سمجھیں اور اس کی حقیقت کو جانیں اور اس کی حقیقی عزت اپنے دلوں میں قائم کریں۔بلکہ اس کا اظہار ہمارے ہر قول و فعل سے ہو۔اگر اس کا اظہار ہمارے ہر قول وفعل سے نہیں تو پھر یہ مہجور کی طرح چھوڑ دینے والی بات ہے اور یہ حالت پیشگوئی کی صورت میں خدا تعالیٰ نے خود قرآن کریم میں فرما دی ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا۔سورۃ الفرقان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا ( الفرقان : 31) اور رسول کہے گا اے میرے رب ! یقینا میری قوم نے اس قرآن کو متروک کر چھوڑا ہے۔ترک کر دیا ہے۔چھوڑ ا ہے۔پڑھتے تو ہیں لیکن عمل کوئی نہیں۔پس بڑے ہی خوف کا مقام ہے، ہر احمدی کے لئے یہ محہ فکر یہ ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ ہم زمانہ کے امام کو اس لئے مانیں کہ ہم نے قرآن کریم کی حکومت اپنے پر لاگو کرنی ہے۔ہم نے اس خوبصورت تعلیم کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی کوشش کرنی ہے۔پس قرآن کریم کی تلاوت کے بعد اس کی اس تعلیم پر عمل ہی ہے جو ہمیں اس عظیم اور لاثانی کتاب کو ہجور کی طرح چھوڑنے سے بچائے گا۔قرآن کریم نجات کا شفا بخش نسخہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارہ میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : یا درکھو، قرآن شریف حقیقی برکات کا سر چشمہ اور نجات کا سچا ذریعہ ہے۔یہ ان لوگوں کی اپنی غلطی ہے جو قرآن شریف پر عمل نہیں کرتے۔عمل نہ