تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 53
53 " جاتا ہے۔( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے بارہ میں فرما رہے ہیں کہ جب میں درد سے تمہیں یعنی مسلمانوں کو اپنی طرف بلاتا ہوں کہ قرآن کریم پہ عمل کرو تو کذاب ، جھوٹا اور دجال کہا جاتا ہے)۔فرماتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر اور کیا قابل رحم حالت اس قوم کی ہوگی“۔فرمایا کہ ”مسلمانوں کو چاہئے تھا اور اب بھی ان کے لئے یہی ضروری ہے کہ وہ اس چشمہ کو عظیم الشان نعمت سمجھیں اور اس کی قدر کریں۔اس کی قدر یہی ہے کہ اس پر عمل کریں اور پھر دیکھیں کہ خدا تعالیٰ کس طرح ان کی مصیبتوں اور مشکلات کو دور کر دیتا ہے۔کاش مسلمان سمجھیں اور سوچیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے یہ ایک نیک راہ پیدا کر دی ہے اور وہ اس پر چل کر فائدہ اٹھائیں۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 140-141 - مطبوعہ ربوہ ) اس اقتباس میں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسلمانوں کی حالت کا نقشہ کھینچا ہے اور افسوس کا اظہار فرمایا ہے۔وہاں ہماری ذمہ داری بھی بڑھتی ہے کہ اس خوبصورت تعلیم کو اس قدر اپنی زندگیوں پر لاگو کریں کہ بعض مسلمان گروہوں کے عملوں کی وجہ سے جو غیر مسلموں کو اسلام اور قرآن پر انگلی اٹھانے کی جرات پیدا ہوتی ہے وہ نہ رہے۔احمدیوں کے عمل کو دیکھ کر انہیں اپنی سوچیں بدلنی پڑیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سے احمدی ہیں جو قرآن کریم کی خوبصورت تعلیم دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں، لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جب بھی ہمارے جلسے ہوں، سیمینار ہوں قرآن کریم کی تعلیم پیش کی جاتی ہے تو برملا ان غیروں کا اظہار ہوتا ہے کہ اسلام کی تعلیم کا یہ رخ تو ہم نے پہلی دفعہ سنا ہے۔پس جب ہم ان باتوں کو اپنی روزمرہ زندگیوں کا بھی حصہ بنالیں گے تو صرف تعلیم سنانے والے نہیں ہوں گے بلکہ عملی نمونے دکھانے والے بھی ہوں گے۔