تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت اور برکات — Page 14
14 مطلب یہی ہے کہ اس کے حکموں پر عمل نہیں کر رہے نہ اللہ کے حقوق ادا کر رہے ہیں نہ بندوں کے حقوق ادا کر رہے ہیں۔ایسی صورت میں جب ہر کوئی اپنا جائزہ لے تو ہر ایک کو اپنا علم ہو جائے گا کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔قرآن کریم پر عمل نہ کرنے والے کا کوئی ایمان نہیں ایک روایت میں آتا ہے حضرت صہیب سے مروی ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے قرآن کریم کے محرمات کو عملاً حلال سمجھ لیا اس کا قرآن پر کوئی ایمان نہیں۔یعنی جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ان کی کوئی پرواہ نہیں کی قرآن کریم کے جو احکامات ہیں ان پر عمل نہ کیا۔تو ایسا شخص لاکھ کہتا رہے کہ الحمدللہ میں مسلمان ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتا ہے کہ نہیں تمہارا کوئی ایمان نہیں ہے۔کیونکہ تم قرآن کریم کے حکموں پر عمل نہیں کر رہے۔پس ایسے لوگوں کو جو لوگوں کے حق مارتے ہیں ان کے حقوق غصب کر رہے ہیں اس حدیث کو سننے کے بعد سوچنا چاہئے کہ میرا ایمان جا رہا ہے، کس طرح اس کو واپس لے کے آنا ہے۔پھر ایک روایت میں ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور فرمایا کہ عنقریب بہت سے فتنے پیدا ہوں گے دریافت کیا گیا کہ ان فتنوں سے خلاصی کی کیا صورت ہو گی اے جبرائیل! فرمایا کہ فتنوں سے خلاصی کی صورت کتاب اللہ ہے۔پس جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی کتاب کی طرف توجہ دیں اس کو پڑھیں ، اس کی تلاوت کریں۔اس کے مطالب کی طرف بھی توجہ دیں اور جیسا کہ پہلے حدیث بیان ہو چکی ہے، اس کا مزا بھی لیں اور اس کی خوشبو بھی پھیلائیں۔ایک روایت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن کریم کو ظاہر